ہم ایمپائرہیں، تھرڈایمپائرکوئی نہیں، زرداری -
The news is by your side.

Advertisement

ہم ایمپائرہیں، تھرڈایمپائرکوئی نہیں، زرداری

لاہور: پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں پارلیمنٹ کی بقا چاہتا ہوں، ہم سب آپس میں ایمپائر ہیں تھرڈ ایمپائر کوئی نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی جمہوریت کی بقا چاہتی ہے اور اسی جمہوریت کے لئے بینظیر بھٹو نے اپنی جان کی قربانی دی۔

عمران خان کے ایمپائر سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ہم سب آپس میں ایمپائر ہیں اور کوشش کررہے ہیں کہ معاملہ آپس میں حل کرلیں، تھرڈ ایمپائر کوئی نہیں ہے اوربات تھرڈ ایمپائر تک گئی تو پھر دور تک جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ اس پارلیمنٹ کو میں نے ہی طاقت ور بنایا ہے کسی نے مجھ سے اختیارات سرینڈر کرنے کا مطالبہ نہیں کیا تھا میں نے خود کمیٹی بنائی کہ پارلیمنٹ کو طاقتور کیا جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ میں نے وزیر اعظم سے ملاقات میں بھی یہی کہا ہے کہ وہ صبر و تحمل سے کام لیں اور معاملے کو پارلیمانی طریقے سے مذاکرات کے ذریعے حل کریں۔

انہوں نے پاک فوج کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ اس وقت ان لوگوں سے نبرد آزما ہے جو ملک کو اندھیروں میں دھکیلنا چاہتے ہیں ہمیں اس وقت پاک فوج کے شانہ بہ شا نہ کھڑے ہونے کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک جمہوری حکومت کادوسری جمہوری حکومت کے خلاف اس طرح احتجاج کرنا درست نہیں ہے، سیاسی قوتوں کا ہونا پاکستان کے استحکام کے لئے بے حد ضروری ہے، انہوں نے کہا کہ پانچ سال تک ہمیں ہٹانے کی کوششیں کی جاتی رہیں لیکن ہم نے ساری آزمائشوں کا سامنا کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ معمالات کے درست اور بروقت حل کے لئے مسلم لیگ ق اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی قوتوں سے رابطہ کررہا ہوں کیونکہ اس وقت ملک کو اتحاد کی ضرورت ہے۔ سب نے مل کر بحران کے حل کے لئے کام کیا ہے۔

ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ معاملے کے حل کا فارمولہ تو حکومت خود بنائے گی ہم نے تو صرف انہیں یہ بتایا ہے کہ وہ معاملے کو پیار سے سلجھائے کہ جس طرح میں نے تمام معاملات اپنے دور میں سلجھائے۔

مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے اتحاد سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہم جمہوری رویوں پر یقین رکھتے ہیں اگر ہمارے خلاف کسی نے غلط زبان استعمال کی بھی تھی تو یہ وقت اس معاملات میں پڑنے کا نہیں ہے۔

پرویز مشرف سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ موضوع آج کی گفتگو میں زیرِبحث نہیں آیا۔ جمہوریت پر اگر کوئی برا وقت آیا تو دیکھ لیں گے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں