The news is by your side.

واٹس ایپ پر نوجوان کو خودکشی کیلئے اُکسانے والے شخص کے ساتھ کیا ہوا؟ جانیے

واٹس ایپ پر دھمکی آمیز پیغامات کے ذریعے ایک نوجوان کو خود کشی پر مجبور کرنے والے ملزم کو عدالت نے قید و جرمانے کی سزا سنادی۔

تفصیلات کے مطابق اسپین کی عدالت نے ایک نوجوان کو خودکشی کی نہج تک پہنچانے والے ادھیڑ عمر شخص کو 10 برس قید کی سزا سنائی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق دسمبر 2016 میں ایک 60 سالہ شخص نے واٹس ایپ پر کم عمر لڑکے کو ڈرانے دھمکانے والے سینکڑوں پیغامات بھیجے تھے۔ اس وقت لڑکے کی عمر 17 برس تھی۔

منگل کو سپین کی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اس شخص نے لڑکے کے واٹس ایپ پر تین گھنٹے کے دورانیے میں 119 ڈرانے دھمکانے والے پیغامات بھیجے۔

عدالت کے مطابق اس نوجوان نے کئی بار اس شخص سے معافی مانگی اور خبردار بھی کیا کہ اگر اس قسم کے پیغامات بھجواتا رہا تو وہ خود کو مار ڈالے گا۔

فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ لڑکے کو پہنچنے والی اذیت سے مجرم بخوبی آگاہ تھا اور اسے یہ بھی علم تھا کہ وہ خودکشی کر سکتا ہے۔

مجرم نے اپنے پیغامات میں لڑکے پر الزامات عائد کیے تھے کہ اس نے کم عمری میں غیر مناسب ویب سائٹس دیکھیں اور دھمکیاں دی کہ وہ اس کے خلاف قانونی کارروائی کرے گا۔

مجرم نے اپنے پیغام میں لکھا کہ میں تمہارے والدین کو بھی تباہ کر دوں گا کیونکہ تم نے بالغوں کے لیے مخصوص ویب سائٹس دیکھیں۔

ان پیغامات کے بعد نوجوان نے اپنے گھر کی چھت سے کود کر خودکشی کر لی تھی جس سے فوری طور پر اس کی موت واقع ہوئی۔

عدالت کے مطابق لڑکے کی خودکشی کے واقعے کے بعد بھی مجرم اس کو واٹس ایپ پر دھمکی آمیز پیغامات بھجواتا رہا۔

لڑکے کے والدین اور بھائی کو ’اخلاقی نقصان‘پہنچانے پر عدالت نے مجرم کو ایک لاکھ 71 ہزار ڈالر کا ہرجانہ بھی ادا کرنے کو کہا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں