spot_img

تازہ ترین

سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہیں چاہئیں، چیف الیکشن کمشنر

سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کے لیے درخواست...

خیبر پختونخواہ اسمبلی میں نو منتخب اراکین نے حلف اٹھالیا

اور: خیبر پختونخواہ اسمبلی میں نو منتخب اراکین نے...

بلوچ طلبا بازیابی کیس : نگراں وزیراعظم انوارالحق کاکڑ عدالت میں پیش

اسلام آباد : بلوچ طلباکی بازیابی کیس میں نگراں...

طوفانی بارشوں سے تباہی، گوادر کو آفت زدہ قرار دینے کا مطالبہ

گزشتہ روز ہونے والی طوفانی برسات نے بلوچستان کے...

کیا خروج نہائی کے بعد کفیل تبدیل کیا جاسکتا ہے؟ سعودی حکام نے بتادیا

ریاض: خروج نہائی لگانے کے بعد کیا کفالت تبدیل کی جا سکتی ہے؟، سعودی محکمہ پاسپورٹ نے واضح کردیا ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق ایک شخص نے ٹوئٹر پر دریافت کیا کہ ’کفیل نے خروج نہائی لگا دیا ہے، کیا اسے کینسل کرکے دوسرے کفیل کے پاس کفالت تبدیل کی جا سکتی ہے؟۔

جوازات کی طرف سے ٹوئٹر پر سوال کا جواب دیتے ہوئے بتایا گیا کہ خروج نہائی لگائے جانے کے بعد ساٹھ دن کے اندر اس پر سفر کرنا لازمی ہوتا ہے ، سفرکرنے کا ارادہ تبدیل ہونے صورت میں مقررہ مدت کے اندر اندر خروج نہائی کو کینسل کرانا لازمی ہوتا ہے بصورت دیگر ایک ہزار ریال جرمانہ عائد کیا جاتا ہے۔

جوازات سے دریافت کیا گیا ’کارکن چھٹی پر گیا ہوا ہے جہاں اس کا اقامہ ایکسپائر ہو گیا، کیا اقامہ اور خروج وعودہ کی مدت میں اضافہ کیا جائے گا؟‘

سوال کے جواب میں جوازات کا کہنا تھا کہ خروج وعودہ کی مدت کا تعین اقامہ کی مدت سے کیا جاتا ہے، کارکن کے بیرون مملکت ہونے کی صورت میں بھی اقامہ کی مدت میں توسیع کرائی جا سکتی ہے۔

سعودی عرب : خروج نہائی کب اور کیسے منسوخ ہوگا؟

واضح رہے خروج نہائی یعنی فائنل ایگزٹ ویزہ حاصل کرنے کا مطلب ہوتا ہے کہ کارکن مستقل طور پر مملکت سے جانا چاہتا ہے، اگر کارکن کو خروج نہائی پر نہیں جانا اس صورت میں لازمی ہے کہ کفیل یا اس کے نمائندے کے ذریعے خروج نہائی ویزے کو مذکورہ بالا مدت جو کہ 60 روزہ ہے کے اندر اندر کینسل کرایا جائے۔

تاہم اس کے لیے لازمی ہے کہ اقامہ بھی کارآمد ہو اس دوران اگراقامہ ایکسپائرہو گیا ہو تو ضروری ہے کہ اقامہ کی ایکسپائری پرعائد ہونے والا جرمانہ ادا کیا جائے۔

Comments

- Advertisement -