The news is by your side.

Advertisement

سعودی عرب، ملازمتی پابندیاں،غیر ملکیوں پر مزید 12 پیشوں کے دروازے بند

ریاض: سعودی حکومت نے غیر ملکیوں پر مزید سختی کرتے ہوئے 12 شعبوں میں ملازمتیں نہ دینے کا فیصلہ کرلیا۔

سعودی میڈیا کے مطابق وزیر محنت و سماجی و بہبو د ڈاکٹر علی الغیفص کی سربراہی میں سرکاری محکموں کے افسران کا اجلاس ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ آئندہ غیر ملکیوں کو 12 نجی شعبوں میں ملازمت نہیں دی جائے گی۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق حکومت کی جانب سے شعبوں میں پابندی کی وجہ مقامی نوجوانوں کی بے روزگاری ہے، وزیر محنت کی سربراہی میں یہ بات سامنے آئی کہ 12 فیصد سعودی نوجوان بے روزگار ہیں اور وہ ملازمتیں تلاش کررہے ہیں۔

اجلاس میں ہونے والے فیصلے کے بعد حکومت کی جانب سے مذکورہ شعبوں میں سرمایہ کاری کرنے والے تاجروں کو  نوٹس ارسال کیے جائیں گے کہ وہ جلد از جلد غیر ملکیوں کو ملازمت سے فارغ کر کے مقامی نوجوانوں کو نوکریاں فراہم کریں۔

مزید پڑھیں: سعودی عرب:‌ سرکاری محکموں سے تمام غیر ملکی ملازمین نکالنے کا حکم

حکومتی فیصلے میں زیادہ تر ایسے شعبوں پر پابندی عائد کی گئی جن میں سے بیشتر کا تعلق سیلز مین سے ہے، غیر ملکی ملازم اگست کے آخر تک نوکری کرسکیں گے جبکہ انہیں درج ذیل شعبوں میں ملازمت نہیں دی جائےگی۔

درج ذیل شعبوں پر پابندی عائد کی گئی

گھڑیاں فروخت کرنے کی دکانیں

چشمے کی دکانیں یا اسٹورز

میڈیکل اسٹورز یا طبی سامان بنانے والے ادارے

الیکٹرانکس اور الیکٹریکل کا شعبہ

گاڑیوں کے اسپیر پارٹس فروخت کرنے والے اسٹورز یا دکانیں

عمارتیں سازی کی دکانیں

تمام اقسام کے قالین فروخت کرنے والی دکانیں

آٹو موبائل اور موبائل کی خریدو فروخت والی دکانیں

تمام اقسام کے فرنیچر فروخت کرنے والی دکانیں اور ادارے

ریڈی میٹ کپڑے فروخت کرنے والی دکانیں

بچوں اور مردوں کے کپڑے فروخت کرنے والی دکانیں

گھریلو مصنوعات فروخت کرنے والی دکانیں

واضح رہے کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں کم ہونے کی وجہ سے سعودی عرب کی معاشی صورت حال تنزلی کا شکار ہے جس کی وجہ سے  حکومت نے غیر ملکیوں پر مختلف شعبوں میں ملازمتوں کے دروازے بند کیے اور سخت شرائط عائد کیں جس کی وجہ سے بے روزگاری میں بہت زیادہ اضافہ ہوگیا۔

قبل ازیں سعودی حکومت نے گذشتہ برس مئی میں سرکاری محکموں سے غیر ملکی ملازمین کو نکالنے کا حکم دیا تھا جس کے بعد 70 ہزار کے قریب ملازمین کو نوکریوں سے برطرف کر کے مقامی نوجوانوں کو ملازمتیں فراہم کی گئیں تھیں۔

یہ ضرور پڑھیں: غیرملکی افراد کو شاپنگ مالز میں نوکریاں نہ دی جائیں، سعودی حکومت

اس سے قبل 20 اپریل 2017 کو سعودی حکومت نے تمام خریداری کے مراکز اور تاجروں کو پابند کیا تھا کہ وہ غیر ملکی تارکین کو نوکریاں نہ دیں بلکہ ملازمتیں صرف سعودی شہریوں کو دیں۔

حکومتی فیصلے سے غیر ملکی ملازمین کی بہت بڑی تعداد متاثر ہوئی تھی کیوں کہ اعداد وشمار کے مطابق شاپنگ سینٹر میں موجود ہر پانچ ملازمین میں سے چار غیر ملکی ہیں جن میں پاکستانی، بھارتی، بنگلہ دیشی اور دیگر ممالک کے افراد کی تعداد زیادہ ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں