منگل, جون 18, 2024
اشتہار

فیصل واوڈا اور مصطفیٰ کمال کو توہین عدالت کے شوکاز نوٹسز جاری، ذاتی حیثیت میں طلبی

اشتہار

حیرت انگیز

اسلام آباد : سپریم کورٹ نے فیصل واوڈا اور مصطفیٰ کمال کو توہین عدالت کے شوکاز نوٹسز جاری کرتے ہوئے ذاتی حیثیت میں پیش ہونےکا حکم دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق سابق وزیر فیصل واوڈاکی پریس کانفرنس پرازخودنوٹس کی سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی۔

چیف جسٹس کی سربراہی میں 3رکنی بینچ نے سماعت کی، جسٹس عرفان سعادت خان اورجسٹس نعیم اخترافغان بینچ میں شامل ہیں۔

- Advertisement -

چیف جسٹس نے فیصل واوڈا کی پریس کانفرنس کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے کہا کہ توہین عدالت کی کارروائی چلائی توکیس میں استغاثہ کون ہوگا، استغاثہ اٹارنی جنرل ہوں گے۔

چیف جسٹس نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے مکالمے میں کہا کہ اب وزن آپ کے کندھوں پر ہے ، کیا شوز کاز نوٹس ہونا چاہیے یا صرف نوٹس ہونا چاہیے، ملک کا ہر شہری عدلیہ کا حصہ ہے۔

جرمنی میں ہٹلر گزرا ہے وہاں آج تک کوئی رو نہیں رہا، غلطیاں ہوئیں انہیں تسلیم کر کے آگے بڑھیں، اسکول میں بچے غطی تسلیم کرے تو استاد کارویہ بدل جاتا ہے۔

فیصل واوڈا اور مصطفیٰ کمال کو نوٹس جاری کرتے ہیں، دونوں کو بلا لیتے ہیں ہمارے منہ پر آکر تنقید کر لیں۔

سپریم کورٹ نے آج کی کارروائی کا حکمنامہ لکھوانا شروع کیا اور فیصل واوڈا اور مصطفیٰ کمال کو طلب کر لیا۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ آرٹیکل 19آزادی اظہار رائے دیتاہےلیکن توہین عدالت نہ کرنے کی قدغن موجودہے، بادی النظر میں فیصل واوڈا کی پریس کانفرنس توہین عدالت ہے۔

سپریم کورٹ نےفیصل واوڈا اور مصطفیٰ کمال کو توہین عدالت کےشوکاز نوٹسز جاری کردیئے۔

سپریم کورٹ نے فیصل واوڈا اور مصطفیٰ کمال کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونےکا حکم دیا اور فیصل واوڈا سے 2ہفتے میں جواب طلب کر لیا۔

حکم نامے میں کہا گیا کہ فیصل واوڈا اور مصطفیٰ کمال اپنے بیانات کی وضاحت کریں۔

سپریم کورٹ نے پیمرا سے پریس کانفرنس کی ویڈیوریکارڈنگ ،ٹرانسکرپٹ طلب کر لیا بعد ازاں ازخود نوٹس کیس کی سماعت 5 جون تک ملتوی کردی گئی۔

Comments

اہم ترین

راجہ محسن اعجاز
راجہ محسن اعجاز
راجہ محسن اعجاز اسلام آباد سے خارجہ اور سفارتی امور کی کوریج کرنے والے اے آر وائی نیوز کے خصوصی نمائندے ہیں

مزید خبریں