spot_img

تازہ ترین

ایاز صادق قومی اسمبلی کے اسپیکر منتخب

مسلم لیگ ن کے سردار ایاز صدیق قومی اسمبلی...

کمالیہ: بارش میں گھر کی چھت گر گئی، ماں باپ اور بیٹا جاں بحق

کمالیہ کے علاقے فاضل دیوان میں مسلسل اور تیز...

حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا

نگراں حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے...

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر امریکا نے صاف انکار کر دیا

پاکستان ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر امریکا نے...

روزانہ دو گھنٹے فون کا استعمال کس خطرے کا باعث ہے؟

موبائل فون کے استعمال سے جہاں بہت سے سماجی فوائد حاصل کیے جاتے ہیں تو دوسری جانب اس کی وجہ سے صحت پر بھی کافی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

موبائل فون کو اگر ضرورت کے مطابق تھوڑے وقت کے لیے صرف ضرورت کے لیے استعمال کیا جائے تو صحت پر ظاہر ہونے والے مضر اثرات سے آسانی کے ساتھ بچا جاسکتا ہے لیکن آج کل موبائل فون کا غیر ضروری استعمال بہت زیادہ حد تک بڑھ چکا ہے، خاص پر نوجوان سوشل میڈیا کی وجہ سے بہت سارا وقت موبائل فون پر گزار دیتے ہیں۔

cell phone

حال ہی میں کی گئی ایک سائنسی تحقیق میں موبائل فون کے زیادہ استعمال کے خلاف سخت وارننگ جاری کی گئی اور اس سے ہونے والے کچھ نقصانات کا انکشاف کیا گیا کیونکہ روزانہ فون کا طویل استعمال صارف کو ایسی بیماریوں میں مبتلا کردیتا ہے جو اس کی زندگی کی مشکلات میں اضافہ کرسکتی ہیں۔

 برطانوی اخبار "ڈیلی میل” کی رپورٹ کے مطابق امریکی محققین کی جانب سے کی گئی ایک حالیہ سائنسی تحقیق میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ اسمارٹ فون کا طویل استعمال یعنی اسے دن میں صرف دو گھنٹے استعمال کرنا بالغ افراد کے لیے حرکت اور توجہ میں کمی، ہائپر ایکٹیویٹی ڈس آرڈر کی نشوونما کے خطرے کو بڑھا سکتا ہے۔

 Phone

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ دنیا توجہ کی کمی ہائپرایکٹیویٹی ڈس آرڈر میں مبتلا بالغوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کا مشاہدہ کر رہی ہے اور محققین کا کہنا ہے کہ اس وجہ اسمارٹ فون ہو سکتا ہے۔

ڈاکٹر یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا جوانی میں ہائپرایکٹیویٹی ڈس آرڈر میں مسلسل اضافہ صرف بہتر اسکریننگ یا ماحولیاتی اور رویے کے عوامل کی وجہ سے ہے۔

 Radiation

جرنل آف امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن میں شائع ہونے والی حالیہ تحقیق میں کہا گیا ہے کہ جو لوگ دن میں دو یا اس سے زیادہ گھنٹے اپنے اسمارٹ فون استعمال کرتے ہیں ان میں توجہ کی کمی کے باعث ہائپر ایکٹیویٹی ڈس آرڈر کا خطرہ 10 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ یہ عارضہ بنیادی طور پر چھوٹے بچوں سے جڑا ہوا ہے۔ اس بات کا امکان ہے کہ بچہ بڑے ہوتے ہی اس سے باہر نکل سکے گا، لیکن اسمارٹ فونز جیسے سوشل میڈیا، ٹیکسٹ میسجز، سٹریمنگ میوزک، فلم یا ٹیلی ویژن کی وجہ سے پیدا ہونے والے خلفشار کا سبب بنتا ہے جو بچوں میں ہائپرایکٹیویٹی ڈس آرڈر کی وبا پیدا کر رہے ہیں۔

Cancer

محققین کا خیال ہے کہ سوشل میڈیا لوگوں پر مسلسل معلومات کی بمباری کرتا ہے، جس کی وجہ سے وہ اپنے فون چیک کرنے کے لیے اپنے کاموں سے وقفہ لیتے ہیں۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ جو لوگ اپنا فارغ وقت ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے گذارتے ہیں وہ اپنے دماغ کو آرام نہیں دیتے اور کسی ایک کام پر توجہ مرکوز نہیں کرتے اور عام خلفشار بالغ افراد کی توجہ کا دورانیہ کم کرنے اور آسانی سے مشغول ہونے کا باعث بن سکتا ہے۔

Speed

سٹینفورڈ یونیورسٹی کے رویے کے ماہر نفسیات الیاس ابو جاود نے کہا کہ "ایک طویل عرصے سے ہائپر ایکٹیویٹی ڈس آرڈر اور بھاری آن لائن استعمال کے درمیان تعلق ہمارے میدان میں ایک مرغی اور انڈے کا سوال رہا ہے۔ کیا لوگ ہائپر ایکٹیویٹی ڈس آرڈر ہونے کی وجہ سے بھاری آن لائن صارفین بن جاتے ہیں”ْ۔

سائنس دانوں نے ہائپر ایکٹیویٹی ڈس آرڈر کو دماغی صحت کی خرابی کے طور پر بیان کیا ہے جس کی وجہ سے لوگوں کو محدود توجہ، انتہائی سرگرمی ہو سکتی ہے جو ان کی روزمرہ کی زندگی کو متاثر کرسکتی ہے۔

Smartphone

ماہرین کے مطابق اس بات کی ہر ممکن حد تک کوشش کرنی چاہیئے کہ موبائل فون کا استعمال ضرورت کے وقت ہی کیا جائے۔ تاہم دو سے پانچ سال کی عمر تک کے بچے زیادہ سے زیادہ ایک گھنٹے تک موبائل فون استعمال کر سکتے ہیں، جب کہ نوجوانوں اور بڑوں کے لیے موبائل فون کے استعمال کا زیادہ سے زیادہ دورانیہ دو گھنٹے ہے۔

Comments

- Advertisement -