site
stats
عالمی خبریں

سال 2016شامی بچوں کے لیے بدترین ترین سال رہا، اقوام متحدہ

نیویارک : اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) نے کہا ہے2016 شامی بچوں کیلئے بدترین سال تھا، گزشتہ سال شام میں 652 بچے ہلاک ہوئے۔

اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف کے مطابق شام میں لاکھوں بچے روزانہ ہونے والے حملوں کی زد میں ہیں اور ان کی زندگی برباد ہو چکی ہے، گزشتہ سال بمباری میں چھ سو پچاس بچے ہلاک ہوئے جبکہ اٹھائیس لاکھ بچوں کو سنگین صورت حال کا سامنا ہے، ان میں دو تہائی بچے کسی نہ کسی اپنے سے محروم ہوگئے ہیں، یا ان کے گھر بمباری اور شیلنگ کی زد میں آئے ہیں، یہ تعداد 2015 میں مارے جانے والے بچوں سے 20 فیصد زیادہ ہے۔

syria-2

رپورٹ میں متنبہ کیا گیا کہ شام میں طبی سہولتوں کا نظام تیزی سے تباہ ہو رہا ہے اور بچے مشقت کرنے پر مجبور ہونے کے علاوہ کم عمری کی شادی کے شکار اور لڑائی میں شریک ہو رہے ہیں۔

syria

شام کی خانہ جنگی اپنے چھٹے سال میں داخل

شام کی خانہ جنگی اپنے چھٹے سال میں داخل ہو چکی ہے، جس کی وجہ سے وہاں کے تقریباً 60 لاکھ بچے انسانی بنیادوں پر دی جانے والی امداد پر منحصر ہیں۔

یونیسیف کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے دیگر ملکوں میں بطور پناہ گزین بچوں کی تعداد لگ بھگ 23 لاکھ ہے ۔

sy

ادارے سیو دا چلڈرن نے متنبہ کیا کہ لاکھوں بچے ’ذہنی دباؤ‘ کی حالت میں زندگی بسر کر رہے ہیں، جنہیں فوری مدد کی ضرورت ہے اس خیراتی ادارے نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر ان کی فوری مدد نہیں کی گئی تو انھیں اس سے نکالنا مشکل ہوگا، حالت سے پریشان یہ بچے عالمی اداروں کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ کب خانہ جنگی ختم ہو اور ان کے ملک میں واپس خوشیاں آئیں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top