The news is by your side.

Advertisement

سندھ میں کتنے اساتذہ “کرپشن” میں ملوث ہیں؟ چشم کشا حقائق منظر عام پر

کراچی: معاشرے سے سماجی برائیوں کے خاتمے میں اہم کردار ادا کرنے والے خود کرپٹ نکلے، کرپٹ عناصر کے باعث تعلیم جیسا پیشہ بھی داغدار ہورہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سندھ ہائی کورٹ میں نیب زدہ افسران کی ملازمتوں پر بحالی کے خلاف ایم کیوایم کی درخواست پر سماعت ہوئی، درخواست گزار اور چیف سیکرٹری سندھ سمیت اعلیٰ حکام عدالت میں پیش ہوئے۔

سماعت کے آغاز پر چیف سیکرٹری نے نیب زدہ افسران کے خلاف کارروائی سے متعلق اپنی رپورٹ عدالت میں جمع کرائی، رپورٹ میں بتایا گیا کہ 435 کرپٹ سرکاری افسران وملازمین میں سے 55 سرکاری افسران کےخلاف کارروائی کی گئی، 10سرکاری افسران کو جبری ریٹائرڈکیا گیا جبکہ 12سرکاری افسران کی عہدے سےتنزلی کی گئی اور 29برطرف جبکہ 73 کے سالانہ انکریمنٹ روک لیےگئے ہیں۔چیف سیکرٹری کی جانب سے عدالت عالیہ میں پیش کی گئی رپورٹ میں بتایا گیا کہ مزید 238 رکاری افسران و ملازمین کےخلاف کارروائی جاری ہے، ان238 میں سے217 صرف اساتذہ ہیں، یہ اساتذہ پرائمری اور ہائی اسکول سےتعلق رکھتےہیں، ان اساتذہ کو نکالنےسےاسکولوں میں خلاپیدا ہوگا۔

اس موقع پر عدالت نے سیکرٹریزکو 30دن میں دیگر افسران کےخلاف کارروائی کی ہدایت کرتے ہوئے تمام سرکاری محکموں کےسیکٹریریز سے سرٹیفکیٹس طلب کرلیے، دوران سماعت چیف سیکرٹری سندھ نے عدالتی فیصلے پر عمل کےلیے دو ماہ کی مہلت مانگ کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ ساٹھ روز میں عدالتی فیصلے پرعمل کرلیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:  سندھ ہائیکورٹ کا کرمنل کیسز کا سامنا کرنیوالے افسران کو عہدوں سے ہٹانے کا حکم

نیب زدہ افسران کی ملازمتوں پر بحالی کے خلاف ایم کیوایم کنور نوید جمیل نے سندھ ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر رکھی ہے۔

یاد رہے کہ گذشتہ سال اکتیس دسمبر کو سندھ ہائیکورٹ نے نیب اور کرمنل کیسز کا سامنا کرنے والے افسران کو عہدوں سے ہٹانے کا حکم دیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں