The news is by your side.

Advertisement

22 لاکھ صحت کارڈ تقسیم کر دیے، مزید 90 لاکھ تقسیم کریں گے: وفاقی وزیر صحت

اسلام آباد: وفاقی وزیر عامر کیانی نے کہا ہے کہ اب تک 22 لاکھ صحت کارڈ تقسیم کیے جا چکے ہیں، رواں سال 90 لاکھ صحت کارڈ تقسیم کریں گے۔

وفاقی وزیر صحت عامر کیانی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں 25 فی صد سرکاری جب کہ 75 فی صد نجی اسپتال کام کر رہے ہیں، بنیادی سہولتوں کی فراہمی ریاست کی ذمےداری ہے۔

انھوں نے کہا ’ساڑھے 3 کروڑ لوگوں کو ہیلتھ انشورنس دینے جا رہے ہیں، حکومت شعبہ صحت کے مسائل حل کرنے جا رہی ہے، شعبہ صحت میں بھرپور اصلاحات جاری ہیں۔‘

عامر کیانی کا کہنا تھا کہ ڈرگ انڈسٹری انتہائی اہمیت کی حامل ہے لیکن اس کی برآمدات میں نمایاں کمی آئی ہے، حکومت ادویات کی دستیابی یقینی بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے، صورت حال سنبھالنے کے لیے خیبر پختون خوا میں ہیلتھ کارڈ کا اجرا کیا۔

وزیر صحت نے کہا کہ یومیہ 65 ہزار صحت کارڈز کی پرنٹنگ و تقسیم جاری ہے، ہیلتھ کارڈ سے عام آدمی کو بہترین طبی سہولتیں میسر آ رہی ہیں، ہیلتھ کارڈ ہولڈر کو ٹرانسپورٹ الاؤنس فراہم کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  جان بچانے والی ادویات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف کریک ڈاؤن

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی اولین ترجیح ادویات کی دستیابی یقینی بنانا ہے، 2001 سے ادویات کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا گیا تھا، ڈالر ریٹ بڑھنے اور خام مال مہنگا ہونے سے فارما انڈسٹری کو مسائل کا سامنا تھا، 900 ادویات کی قیمتوں میں رد و بدل کیا گیا ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا ’385 ادویات کی قیمتوں میں کمی کی گئی ہے، حکومتی رِٹ چیلنج کرنے والوں سے سختی سے نمٹا جائے گا، 37 کمپنیوں نے 175 ادویات کی قیمتوں میں از خود اضافہ کیا، ان کمپنیوں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری رہے گا۔

عامر کیانی نے مزید کہا کہ حکومت صنعتوں کو فعال کرنے اور نوکریاں دینے کے لیے اقدامات کر رہی ہے، از خود قیمتیں بڑھانے والی کمپنیوں کی پیداوار روک رہے ہیں، قانون شکن دوا ساز کمپنیوں کے خلاف عدالتوں سے بھی رجوع کریں گے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں