The news is by your side.

Advertisement

کراچی: پانی چوری میں‌ واٹر بورڈ‌ افسران ملوث نکلے، کروڑوں کا دھندا بے نقاب

کراچی کے شہریوں کو پانی سے محروم رکھنے کا کروڑوں کا دھندا بے نقاب ہوگیا۔

اے آر وائی نیوز کے اینکر اقرار الحسن نے کراچی والوں کو پانی سے محروم رکھنے کے دھندے کا بھانڈا پھوڑ دیا، واٹر بورڈ والے غیرقانونی ہائیڈرینٹ 30، 30 لاکھ روپے میں بیچنے لگے۔

واٹر بورڈ کے انجینئر تابش نے 30 لاکھ روپے کی ڈیل کی جس کی ویڈیو سے شواہد حاصل کرلیے گئے ہیں۔ فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ 50 ہزار بطور ٹوکن دئیے گئے۔

ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک شخص 50 ہزار روپے دیتے ہوئے کہہ رہا ہے کہ ’سردار بھائی میں نے آپ کو ابھی 50 ہزار روپے ٹوکن دیا ہے، باقی پیسے آپ کے حوالے کردوں گا، تابش بھائی سے نہیں ملوں گا۔‘

اینکر اقرار الحسن کا کہنا تھا کہ اس کرپشن میں واٹر بورڈ کے اعلیٰ افسران شامل ہیں جن کی ذمہ داری ہے کہ کراچی کے شہریوں کو بلا تعطل پانی کی فراہمی یقینی بنائیں۔

انہوں نے کہا کہ واٹر بورڈ کے افسران کی جانب سے پانی بیچنے والوں کی سرپرستی اور نگہبانی کی جاتی ہے، غیرقانونی ہائیڈرنٹ کے لیے واٹر بورڈ کے سپرنٹنڈنٹ انجینئر تابش رضا 30 لاکھ روپے میں ڈیل کررہے تھے۔

اقرار الحسن کے مطابق تابش گوہر نے کہا کہ 30 لاکھ عوض غیرقانونی ہائیڈرنٹ کھول سکتے ہیں اور اس پر دس سے بارہ ٹینکر لگا سکتے ہیں، ہائیڈرنٹ نہیں توڑا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ واٹر بورڈ اینٹی تھیفٹ سیل کے انچارج راشد صدیقی بھی اس تمام کرپشن میں ملوث ہیں، وہ بھی غیرقانونی ہائیڈرنٹ کے پیسے دینے والے شخص کو گارنٹی دیتے رہے۔

ویڈیو میں اینٹی تھیفت سیل کو کہتے سنا جاسکتا ہے کہ ’تابش اور میرا تعلق ہے جب ہائیڈرینٹ توڑنے آؤں گا تو بتادوں گا آپ بھاگ جانا۔‘

Comments

یہ بھی پڑھیں