The news is by your side.

Advertisement

برف پر چلنے والوں‌ کو پھسلن کا سامنا کیوں ہوتا ہے؟

گرمی کا برف کا استعمال بڑھ جاتا ہے اور پاکستان میں گرمی بڑھتے ہی لوگ ٹھنڈے مشروبات کی جانب رخ کرتے ہیں لیکن آپ کو ایک تجربہ یقیناً ہوا ہوگا کہ برف ہاتھ سے پھسلنے لگتی ہے اور لوگ بھی برف پر چلنے لگے تو پھسل جاتے ہیں اس لیے برف پر لوگ چلتے ہوئے احتیاط سے کام لیتے ہیں۔

کبھی آپ نے یہ سوچا ہے کہ برف پھسلتی کیوں ہے؟ دلچسپ بات یہ ہے کہ سائنسدان اب تک اس سادہ سے سوال کے جواب سے لاعلم تھے، اب ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ برف کی پھسلن کا سبب اس کی سطح پر موجود اضافی یا آزاد سالمے یعنی مالیکیول ہیں۔

برف کی پھسلن کے بارے میں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ برف پانی کے مقابلے میں کم کثیف ہوتی ہے لہٰذا بلند دباؤ کے تحت اس کا نقطہ پگھلاؤ کم ہوجاتا ہے۔

برف اسی لیے معمولی درجہ حرارت پر پگھلنے لگ جاتی ہے اور پھسلواں ہوجاتی ہے یعنی جیسے ہی اس پر پاؤں رکھیں گے تو وزن کی وجہ سے اس کی اوپری سطح پگھل کر پانی بن جائے گی۔

اس نظریے کے بارے میں جرمنی کے میکس پلانک انسٹیٹیوٹ فار پولیمر ریسرچ کے مالیکیولر اسپیکٹرواسکوپی ڈیپارٹمنٹ کی ڈائریکٹر میشا بون کہتی ہیں کہ میرے خیال میں اس نظریے سے کوئی بھی اتفاق نہیں کرے گا، کیوں کہ دباؤ سے برف نہیں پگھل سکتی۔ اگر اس سے برف پگھلانی ہو تو اس کے لیے بے انتہا دباؤ درکار ہوگا۔

دوسرے نظریے کے مطابق جب آپ برف پر چلتے ہیں تو جوتے کی رگڑ کی وجہ سے حرارت پیدا ہوتی ہے جو برف کی اوپری سطح کو پگھلادیتی ہے۔ اگر برف کی بالائی سطح پگھل بھی جائے توکیا یہ پھسلن کا جواز بن سکتی ہے؟ بون کہتی ہیں کہ آبی سطح کا نظریہ بھی قابل فہم نہیں۔ اگر آپ اپنے باورچی خانے کے فرش پر پانی گرادیں تو وہ بھی پھسلواں ہوجاتا ہے، اگرچہ بہت زیادہ نہیں۔

برف کی قلمی ساخت بہت باقاعدہ اور شفاف ہوتی ہے جہاں ہر ایک قلم میں مالیکیول تین دوسرے مالیکیولوں سے جُڑا ہوتا ہے۔ تاہم سطح پر ایک مالیکیول دو مالیکیولوں سے جڑا ہوتا ہے۔ کمزور بونڈ ہونے کی وجہ سے سطح کے مالیکیول تھرکتے رہتے ہیں اوراردگرد کے مالیکیولوں سے کبھی جڑتے اور کبھی علیٰحدہ ہوتے رہتے ہیں۔ ان کی یہ تھرتھراہٹ برف کی بالائی سطح پر پھسلن پیدا کرتی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں