The news is by your side.

Advertisement

چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ کا لاہور کی طرح صوبے کے باغات کو خوبصورت بنانے کی ہدایت

پشاور: پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے صوبے کے باغات کو لاہور کی طرح خوبصورت بنانے کی ہدایت کردی۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق پشاور کے تاریخی پارکوں کی تعمیر و مرمت کے حوالے سے دائر کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس قیصر رشید خان پارکوں میں منشیات کے عادی افراد کی موجودگی پر پولیس حکام پر بھرمی کا اظہار کیا۔

انہوں نے ایس ایس پی سٹی عتیق شاہ سے استفسار کرتے ہوئے کہا کہ ’ہماری پاس کچھ ایسی اطلاعات ہیں کہ وزیر باغ میں نشئی افراد کے ڈیرے ہیں، پولیس کیا کررہی ہے‘؟۔  ایس پی سٹی نے عدالت کو بتایا کہ ہم اقدامات کررہے ہیں جلد سب ٹھیک ہوجائے گا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ پارک کو نشئی افراد کی آماجگاہ بنادیا گیا ہے، وہاں کے ایس ایچ او کیا کررہے ہیں؟ اگر ایس ایچ او کام نہیں کرسکتا ہے تو اس کو تبدیل کریں اور ایسے افسر کو تعینات کریں جو کام کرسکتا ہے۔

سماعت کے دوران ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ جنگلات طارق شاہ، ٹاؤن میونسپل آفیسر  وقاص، ایس پی کینٹ اور ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل سکندر حیات شاہ بھی پیش ہوئے۔

مزید پڑھیں: ادویات کی قیمتوں میں اضافے پر پشاور ہائی کورٹ کا اظہار تشویش

ڈپٹی ڈائریکٹر جنگلات طارق شاہ نے عدالت کو بتایا کہ شاہی باغ میں 70 فیصد سول ورک مکمل ہوگیا، پارک کی خوبصورتی کا کام بھی جلد مکمل کرلیا جائے گا۔

چیف جسٹس نے ڈپٹی ڈائریکٹر جنگلات کو ہدایت کی کہ آپ لاہور کا دورہ کریں اور وہاں کے تاریخی پارکوں کو دیکھ کر یہاں کے پارکوں کو اُسی طرح خوبصورت بنائیں۔

ڈپٹی ڈائریکٹر نے عدالت سے استدعا کی کہ وزیرباغ میں نئے پودے لگائے ہیں، اگر کچھ وقت کے لئے پارک کو بند کیا جائے تو پودوں کی صحیح طور پر نشونما ہوجائے گی کیونکہ پارک میں بچوں کی موجودگی سے  نئے پودوں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ نئے پودے لگائے ہیں تو پھر ایک مہینے کے لئے پارک کو بند کیا جائے اور پولیس اس کو یقینی بنائے تاکہ نئے پودوں کو نقصان نہ ہوں، عدالت نے ڈپٹی ڈائریکٹر جنگلات اور دیگر فریقین سے آئندہ سماعت پر تفصیلی رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت 27 اکتوبر تک ملتوی کردی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں