The news is by your side.

Advertisement

اس ٹکیہ کے بعد سرنج کی ضرورت نہیں، انجکشن سے خوفزدہ افراد کے لیے اچھی خبر

سڈنی: آسٹریلوی ماہرین نے ایک ایسی چیز پر کام شروع کردیا ہے جس کے بعد مستقبل میں سرنج کی ضرورت ختم ہوجائے گی۔

فرانسیسی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق طبی ماہرین نے بالخصوص کرونا ویکسیین کے لیے سرنج کے متبادل کے طور پر ’جلدی ٹکیہ‘ (اسکن پیچز) پر کام شروع کردیا ہے جو سرنج کی طرح تکلیف دہ نہیں ہوں گے۔

تحقیقی ماہرین نے پیچز بنانے کے لیے کوششوں کو تیز کردیا ہے، جس کے بعد مستقبل میں دوا جسم میں داخل کرنے کے لیے انجکشن کی ضرورت پیش نہیں آئی گی۔

اسکن پیچز کیسے کام کریں گے؟

اسکن پیچز یا جلدی ٹکیہ کی مدد سے دوا کو جسم میں داخل کیا جائے گا، جیسے ابھی سرنج کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ اس ٹکیہ کو جب کھال جسم کے مخصوص حصوں جیسے ہتھیلی، بازو پر رکھا جائے گا تو جلد پر موجود سوراخوں کے ذریعے دوا جسم میں داخل ہوجائے گی۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ اسکن پیچز کے بعد کلینکس اور اسپتالوں میں بچوں اور بڑوں کا سرنج سے خوف ختم ہوجائے گا اور کوئی جسم میں دوا داخل کروانے کے لیے خوفزدہ نہیں ہوگا۔

مزید پڑھیں: اب لعاب سے شوگر چیک ہوگی، خون کی ضرورت نہیں

ماہرین کے بتایا کہ اسکن پیچز کے لیے ٹرانسپورٹ اور ذخیرہ کرنے کے لیے کم درجہ حرارت کی ضرورت بھی نہیں ہوگی، یعنی اسے انجکشن سے زیادہ آسانی سے محفوط کیا جاسکے گا۔

سائنس ایڈوانسز کے جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اسکن پیچز پر تجربات کیے جارہے ہیں، کلینیکل ٹرائلز کے بعد اسے منظوری کے لیے ڈبلیو ایچ او کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

ماہرین نے ان ٹکیوں کی آزمائش کے لیے چوہوں کا انتخاب کیا اور ان کو دو حصوں میں تقسیم کر کے کچھ کو پیچ جبکہ بعض کو سرنج کے ذریعے انجکشن لگائے گیے۔

جن پر پیچ کا استعمال ہوا ان کے مدافعتی نظام نے اعلیٰ سطح کی اینٹی باڈیز پیدا کیے۔

کوئنز یونیورسٹی کے پروفیسر اور وبائی امراض کے ماہر ڈیوڈ ملر نے کہا کہ ’ویکسین یا انجکشن عام طور پر پٹھوں میں لگایا جاتا ہے،  ادویات کے خلاف پٹھوں کے ٹشوز میں زیادہ مدافعتی خلیے نہیں ہوتے۔

ڈیوڈ ملر کا مزید کہنا تھا کہ پیچز کا استعمال بہت ہی آسان ہے اور اس کے لیے اعلیٰ تربیت یافتہ طبی عملے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ان پیچز کا استعمال جلد پر ہوتا ہے۔ اس تحقیق میں استعمال ہونے والا پیچ آسٹریلوی کمپنی ویکساس نے بنایا ہے۔

دو امریکی کمپنیاں بھی اس قسم کے پیچز پر کام کر رہی ہیں، انسانوں پر اس کا تجربہ آئندہ سال اپریل میں کیا جائے گا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں