The news is by your side.

Advertisement

افغان حکام کا امریکا کو خط، اثاثوں کی بحالی کا مطالبہ، معاشی صورت حال بھی بیان کردی

کابل: امارات اسلامیہ نے امریکی کانگریس سے ایک بار پھر افغانستان کے منجمد اثاثوں کی بحالی کا مطالبہ کردیا۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق امارات اسلامیہ کے قائم مقام وزیر خارجہ امیر خان متقی نے بدھ کے روز امریکی کانگریس نمائندگان کے نام ایک کھلا خط لکھا، جس میں انہوں نے ملک کی معاشی صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے افغانستان کے اثاثوں کی بحالی کا مطالبہ کیا۔

اپنے خط میں امیر متقی نے لکھا کہ افغانستان شدید معاشی چیلنجز اور عدم تحفظات سے دوچار ہے، طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد امریکا نے بعد افغانستان کے جو اثاثے منجمد کیے انہیں بحال کیا جائے کیونکہ انہیں منجمد رکھنے سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔

وزیر خارجہ نے اپنے خط میں امریکی حکام سے استدعا کی کہ وہ افغانستان کے مرکزی بینک پر عائد پابندی کو بھی ختم کرے تاکہ شہریوں کو نقل مکانی سے روکا جائےاور انسانی و معاشی بحران کو دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ افغانستان کے معاشی مسائل حل نہ کیے گئے تو بحران سنگین صورت اختیار کرجائے گا، جس کے اثرات دیگر ممالک کو بھی پہنچیں گے۔ امیر متقی نے اپنے خط میں کہا کہ ’امارات اسلامیہ نے اقتدار سنبھالنے کے بعد گڈ گورننس، سیکیورٹی اور ٹرانسپرنسی کے حوالے سے اقدامات کیے ہیں، ہماری حکومت سے خطے یا دنیا کے کسی بھی ملک کو کوئی خطرہ نہیں ہے بلکہ ہم نے تعاون کیا اور تعلقات کی راہ ہموار کی۔

مزید پڑھیں: افغانستان کے منجمد اثاثوں کی بحالی ناگزیر ہے: وزیر اعظم

یہ بھی پڑھیں: ‏’عالمی کانفرنس میں افغانستان کے منجمد اثاثوں کی بحالی پر اتفاق‘‏

انہوں نے مزید لکھا کہ ’افغان شہری عالمی برداری کے خدشات کو سمجھتے ہیں مگر اب ضرورت ہے کہ تمام فریق ایسے مثبت اقدامات کریں جس سے اُن کا بھروسہ مزید بڑھ جائے‘۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ امریکی کانگریس کے اراکین اس خط کے معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو اقدامات کرنے پر قائل کریں گے۔

یاد رہے کہ امریکا نے افغانستان کے مرکزی بینک کے 9.5 ارب ڈالرز مالیت کے اثاثے اُس وقت منجمد کیے تھے جب طالبان نے اقتدار سنبھالا تھا۔ بعد ازاں اکتوبر میں سیکریٹری والی ایڈیمو نے سینیٹ کمیٹی کو آگاہ کیا تھا کہ وہ طالبان کو افغانستان کے مرکزی بینک کے اثاثوں کی رسائی دینے کے مخالف ہیں۔

یاد رہے کہ امریکی اور غیرملکی افواج کے انخلا کے بعد مختلف ممالک نے افغانستان کو دی جانے والی امداد کا سلسلہ فوری طور پر بند کردیا ہے، ایک موقع پر برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے طالبان کو پیش کش کی تھی کہ وہ لڑکیوں کو تعلیم اور ملازمت کا حق دیں تو پھر امداد کے حوالے سے سوچ بچار کی جاسکتی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں