The news is by your side.

Advertisement

کرونا کی نئی قسم پھیلنے کی وجہ مخصوص فیس ماسک قرار

بیجنگ: ہانگ کانگ میں کرونا کی نئی قسم کا پہلا کیس سامنے آگیا،  متاثرہ مریض جنوبی افریقا سے واپس ہانگ کانگ پہنچا تھا۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق ہانگ کانگ حکام نے جمعے کے روز کرونا کی نئی قسم کا کیس رپورٹ ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے اس کی وجہ ایک خاص قسم کے ماسک کو قرار دیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ جنوبی افریقا سے آنے والے مسافر ’سیلفش ماسک‘ کا استعمال کر کے نئے ویریئنٹ کو شہر میں جان بوجھ کر پھیلانے میں ملوث ہے۔

محکمہ صحت کے حکام نے بتایا کہ جنوبی افریقا سے آنے والے مسافر کو ایئرپورٹ پر کرونا کے تشخیصی ہوئی، جس کے بعد دو مسافروں کو ایک ہی فلور پر قرنطینہ میں رکھا گیا اور پھر دونوں اس وائرس سے متاثر ہوگئے۔

مزید پڑھیں: کورونا کی نئی قسم؛ بحرین نے 6 ممالک پر پابندی لگا دی

حکام نے بتایا کہ ان دونوں مسافروں نے کرونا ویکسین کی دونوں خوراکیں لگوائی ہوئیں ہین جبکہ وہ ایک ساتھ نہیں  آمنے سامنے والے کمروں میں قرنطینہ کررہے تھے۔

سیلفش ماسک کیا ہے؟

کرونا وبا کے بعد دنیا بھر میں مختلف قسم کے ماسک تیار کیے گئے، جن میں سب سے بہترین اور مؤثر این نائنٹی فائیو کو قرار دیا جاتا ہے، یہ طبی عملہ یا کرونا وارڈ میں ڈیوٹی انجام دینے والے استعمال کرتے ہیں جبکہ باقی شہری عام کپڑے یا دیگر اقسام کے ماسک استعمال کرتے ہیں۔

ماسک استعمال کرنے والے شہریوں کو سانس لینے میں دشواری کے سبب ایک کمپنی نے خاص قسم کا ماسک بنایا تھا، جس میں سانس لینے کے لیے ایک پلاسٹک کا ڈھکنا لگایا گیا تھا، وہ جب چاہیں اسے ہٹا کر سانس لے سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا کی سب سے خطرناک قسم سامنے آ گئی

اسے بھی پڑھیں: کرونا وائرس کی نئی قسم، ماہرین پریشان

یاد رہے کہ جنوبی افریقا کے ماہرین نے کرونا کی نئی قسم سامنے آنے کی نشاندہی کی اور بتایا کہ یہ ماضی کے مقابلے میں زیادہ طاقتور اور متعدی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں