ہم جہموریت کے خلاف کسی پلان کا حصہ نہ ہوںگے، شاہ محمود قریشی -
The news is by your side.

Advertisement

ہم جہموریت کے خلاف کسی پلان کا حصہ نہ ہوںگے، شاہ محمود قریشی

اسلام آباد:  پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہماری جماعت جمہوریت کے خلاف کسی پلان کا حصہ نہ ہوںگے۔

شاہ محمود قریشی نےکہا کہ وہ آج ایوان میں اپنی جماعت کی نمائندہ کرنے کے لیے آئے ہیں، تاکہ ہم اپنا مؤقف پیش کرسکیں۔ کچھ اراکین نے شکوہ کیا میں بھی جواب شکوہ کرسکتا ہوں, یہ ایک تاریخی موڑ ہے جس میں ہم بھٹک بھی سکتے ہیں، ہم سب کو سنجیدہ کردار ادا کرنا چاہئیے۔

انھوں نے کہا کہ دوسرے اراکین کی طرح ہمیں بھی یہ ایوان عزیز ہے۔ایک طبقہ ایسا ہے جو جلتی پر تیل ڈال رہا ہے اور ایک پاکستان سے محبت کرتا ہے، انھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کسی کو بھی جمہوریت کے خلاف اقدمات نہیں کرنے دے گی۔

گوجرانوالہ میں ہم پر حملہ ہوا، ہمیں جوتے اور پتھر مارے گئے، 10 دن ریڈ زون میں بیٹھے رہے لیکن ایک گملا نہیں ٹوٹا۔ ڈاکٹر طاہرالقادری نے جب پارلیمنٹ ہاؤس کی جانب جانے کا فیصلہ کیا تو وہ خود ان کے کنٹینر میں پہنچے اور انہیں قائل کیا کہ وہ یہ کال واپس لیں، گڑ بڑ ہوئی تو جیتی بازی ہار جائیں گے، جمہوریت کی بساط لپٹنے والے فائدہ اٹھائیں گے۔ جس پر طاہر القادری کا کہنا تھا کہ جو وہ کر سکتے تھے انہوں نے کیا وہ مجمعے کو نہیں روک سکتے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ خدا گواہ ہے ہزاروں کا مجمع کھڑا تھا، ہم نے طاہر القادری کے کارکنوں کو کہا کہ پارلیمنٹ ان کا کعبہ ہے پارلیمنٹ کی طرف نہ بڑھنا۔
ہم اس گھر کو جلانے نہیں بچانے آئے ہیں ، میں سمجھتا ہوں کہ سیاسی پختگی میرے کردار کا حصہ ہیں، میں پی ٹی آئی کا کارکن ہوں اور مجھے فخر ہے عمران خان میرا لیڈر ہے۔

انہوں نے کہا کہ پارلیمان کا دفاع کرنا ہمارا فرض ہے، پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ 1976 کے بعد جتنے انتخابات ہوئے متنازع رہے، میری سیاسی تربیت میں محترمہ بے نظیر بھٹو کا ایک بڑ ہاتھ  ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہاکہ اصغر خان کیس کا مطالعہ کیا جائے تو بہیت سے پردہ نشین نے نقاب ہوجائیں گے، یہاں ایک تاثر ہے کہ یہ سب گرینڈ پلان ہے ، اسکرپٹ لکھی ہوئی ہے، پی ٹی آئی کبھی بھی کسی گرینڈ پلان کا حصہ نہیں ۔

انھوں نے کہا کہ تیسرے فریق کو دعوت ہم نہیں دیتے ، ثالث کی بات کس نے کی ، اسٹبلشمنٹ کے منظور نظر لوگ بدلتے رہتے ہیں ،کچھ لوگ کہتے ہیں کہ دھرنا اشارہ پر ہورہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ کارکنوں سے یہ حلف لیا کہ کوئی بھی سرکاری عمارت میں داخل نہیں ہوگا، ہماری جماعت پرامن ہے، پارلیمنٹ پر حملہ کیسے کرسکتی ہیں۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ انتخابات میں ہمارا مینڈیٹ چرایا گیا، ہم نے صرف 4 حلقے دیے تاکہ مستقبل میں شفاف انتخابات کی بنیاد رکھی جائے لیکن ہمارے ساتھ جو کچھ ہوا وہ بھی سب کے سامنے ہے۔ ووٹ کے تقدس کی بحالی کے لئے عمران خان سڑکوں پر نکلے ہیں،

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ عوامی تحریک نے بھی پرامن جمہوری جدوجہد کا یقین دلایا ہے، اسلام آباد آنے دیا ہم شکریہ ادا کرتے ہیں، لیکن لاشیں پر کس کا شکریہ ادا کریں۔ سیاسی اختلافات ہوسکتے ہیں، لیکن پاکستان کی خوشحالی پر کوئی اختلاف نہیں۔

 انھوں نے کہا کہ ہم نے 7 صفحات پر مشتمل ایک دستاویز پیش کی جس پر اسحاق ڈار نے انہیں اسے ناقابل اطلاق قرار دے دیا، ہم چاہتے ہیں کہ ہمیشہ کے لئے پاکستان میں ایسا نظام رائج کرایا جائے جس سے صاف ، شفاف اور غیر جانبدار انتخابات کا انعقاد ممکن ہوسکے۔ اس وقت ملک کو درپیش اندرونی چیلنجز بیرونی خطرات سے زیادہ بڑے ہیں۔ ہم پرانے مردے نہیں نکالنا چاہتے۔ وہ تعمیری ذہن سے مذاکرات کے لئے تیار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آج شام چار بجے اپنی سفارشات کے پیپر اپوزیشن کے جرگے میں پیش کریں گے۔

۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں