The news is by your side.

Advertisement

فیکٹ چیک: کیا یہ تصویر کرونا ویکسین میں شامل چپ کی ہے؟

کرونا وائرس پھیلنے ، ماسک، سینیٹائزر استعمال کرنے کے حوالے سے پہلے ہی مختلف قیاس آرائیاں کی جاچکی ہیں اور اب ایک بار پھر کرونا ویکسین کے بارے میں بے بنیاد خبریں پھیلائی جارہی ہیں۔

عام طور پر جب کرونا وائرس سامنے آیا تو اسے ایک نظریے سے جڑے سازشی لوگوں نے فائیو جی ٹاورز سے منسوب کیا جس کی وجہ سے برطانیہ میں شہریوں نے کئی فائیو جی ٹاورز تباہ بھی کیے تھے۔

ان قیاس آرائیوں سے قبل یہ بھی کہا جارہا تھا کہ کرونا کی کوئی حقیقت نہیں ہے مگر جب وائرس نے زور پکڑا اور اس سے اموات ہوئیں تو سب کو اس پر یقین کرنا پڑا، بعد ازاں فیس ماسک اور سینیٹائزر استعمال کرنے کے حوالے سے بھی من گھڑت خبریں سامنے آئیں جن کا ماہرین نے نہ صرف نوٹس لیا بلکہ انہیں سختی سے مسترد کرتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ وہ جھوٹی افواہوں پر کان نہ دھریں۔

مزید پڑھیں: فیکٹ چیک، کیا ماسک لگانے سے انسان کی موت واقع ہوسکتی ہے؟

کرونا ویکسین کے حوالے سے یہ بات مشہور کی گئی کہ اس میں ایک چپ شامل کی گئی ہے، جس شخص کو بھی ویکسین دی جائے گی یہ چپ اُس کے جسم میں داخل کردی جائے گی جس کے کئی مقاصد ہیں۔

اب اٹلی سے تعلق رکھنے والے ایک شہری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک سرکٹ بورڈ کی تصویر شیئر کرکے دعویٰ کیاکہ ’یہ اُس 5 جی مائیکروچپ‘ کا سرکٹ ہے جو کرونا ویکسین میں شامل کیا گیا ہے۔

ٹویٹر صارف نے یہ بتانے کی کوشش کی کہ جو لوگ ویکسین لگوائیں گے اُن کے جسم میں یہ چپ ڈال دی جائے گی اور پھر انہیں فائیو جی ٹیکنالوجی کی مدد سے قابو کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: فیکٹ‌ چیک: کیا پان چپانے سے کرونا کا خطرہ ٹل جاتا ہے؟

انٹرنیٹ پر یہ ٹویٹ بہت تیزی سے وائرل ہوا اور لوگوں نے بغیر تصدیق کے نہ صرف اس پر یقین کیا بلکہ وہ دھڑا دھڑ ری ٹویٹ بھی کرنے لگے۔ اب تک اس تصویر کو سیکڑوں لوگ آگے بھیج چکے ہیں۔

سرکٹ کی حقیقت کیا ہے؟

اٹلی سے تعلق رکھنے والے سافٹ ویئر انجینئر نے اس تصویر کی حقیقت سب کے سامنے بیان کی اور سازشی نظریے کا پردہ فاش کیا۔

انہوں نے بتایا کہ ’یہ سرکٹ دراصل الیکٹریکل گٹار کا پیڈل ہے، جسے ہر الیکٹرک گٹار کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے‘۔

انہوں نے ازراہ مذاق لکھا کہ ’یہ گٹار پیڈل درحقیقت برقی سرکٹ ہے، مجھے یقین ہے کہ اسے کوویڈ ویکسین میں رکھنا ایک زبردست خیال ہوگا‘۔

Comments

یہ بھی پڑھیں