The news is by your side.

Advertisement

چینی سائنسدانوں نے مریخ پر ’پانی‘ کے شواہد تلاش کرلیے

بیجنگ: چین کے سائنس دانوں کو مریخ پر پانی کی موجودگی کے شواہد مل گئے۔

غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق چین کے روور ژورونگ نے ایسے شواہد دریافت کیے ہیں جن سے عندیہ دیا جارہا ہے کہ مریخ میں پانی کی موجودگی توقعات سے زیادہ عرصے تک برقرار رہتی ہے۔

چین کا یہ روور مریخ کے کرہ شمالی یوٹوپیا پلانٹیا کے ایک بڑے میدان میں 15 مئی 2021 کو اترا تھا اور اس کا بنیادی مشن قدیم زندگی کے آثار کو تلاش کرنا تھا۔

اس مقصد کے لیے وہ مریخ کے ماحول، پانی و برف اور منرلز کی جانچ پڑتال کرتا رہا اور اب ایک سال بعد اس کھوج کے کچھ نتائج جاری کیے گئے ہیں۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ یوٹوپیا پلانٹیا کی سطح پر پانی اس عہد میں بھی موجود تھا ، جس کے بارے میں سائنسدانوں کا خیال ہے کہ مریخ خشک اور ٹھنڈا ہوچکا تھا۔

چائنیز اکیڈمی آف سائنسز کے ماہر اور تحقیقی ٹیم کے قائد یانگ لیو نے بتایا کہ سب سے اہم بات جو ہم نے دریافت کی وہ لینڈنگ کے مقام کی سطح پر موجود نم منرلز تھے، جن سے زیرآب پانی کی سرگرمی کا عندیہ ملتا ہے۔

محققین نے ژورونگ روور کے ڈیٹا سے دریافت کیا کہ لینڈنگ کے مقام پر موجود پہاڑیاں ایک ایسی تہہ پر مبنی ہے جو اسی وقت بنتی ہے جب وہاں کافی مقدار میں پانی رہا ہو، جس کے باعث سطح کی پرت پانی کے بخارات بن کر اڑنے کے باعث سخت ہوگئی ہو۔

یاد رہے کہ سائنسدانوں کا عرصے سے ماننا ہے کہ اربوں سال قبل مریخ کا ماحول گرم اور اس کی سطح پر سیال پانی موجود تھا، مگر کچھ تبدیل ہونے کی وجہ سے 4 ارب سال قبل یہ سیارہ ٹھنڈا ہوگیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں