The news is by your side.

Advertisement

پتھر یا انڈہ؟ 66 ملین سال پرانے پتھر سے متعلق ماہرین کا چونکا دینے انکشاف

واشنگٹن : امریکی سائنس دانوں 6 کروڑ 60 لاکھ سال پرانے پتھر کو رینگنے والے جانور کا انڈہ کا قرار دے دیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق برف سے ڈھکے ہوئے خطے انٹارکیٹا سے فٹبال کے حجم کے برابر کروڑوں سال پرانے سمندری پتھر کی حقیقت جان کر سائنس دان بھی حیران ہوگئے۔

سمندر سے ملنے والے 66 ملین سال پرانے پتھر سے متعلق ٹیکساس یونیورسٹی کے سائنسدانوں سے دعویٰ کیا ہے کہ فٹبال کے حجم جتنا یہ پتھر درحقیقت رینگنے والی سمندری جانور کا انڈہ ہے جس کی لمبائی 7 میٹر تک ہوسکتی ہے۔

میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مذکورہ پتھر 2011 میں دریافت ہوا تھا لیکن سائنس دان اس پتھر کی حقیقت جاننے میں ناکام رہے تو حکام نے اسے ’دی تھنگ‘ کا نام دیکر عوام کےلیے میوزیم میں رکھ دیا تھا۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق 9 سال بعد ماہر رکازیات جولیا کلارک نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ فٹبال کے سائز جتنا پتھر اصل میں ایک بہت بڑے رینگنے والے جانور کا انڈہ ہے جو سات میٹر تک لمبا ہوسکتا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق مذکور پتھر کی لمبائی 28 سینٹی میٹر جبکہ چوڑائی 18 سینٹی میٹر ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں