The news is by your side.

Advertisement

دنیا میں ہرسال 70 لاکھ افرادفضائی آلودگی کے باعث ہلاک ہوجاتے ہیں

واشنگٹن: عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دنیا میں ہرسال 70 لاکھ افرادفضائی آلودگی کے باعث ہلاک ہوجاتے ہیں جبکہ بھارتی دارالحکومت نئی دلی دنیا کا سب سے آلودہ شہرہے۔

تفصیلات کے مطابق عالمی ادارہ صحت کی دنیامیں آلودگی سےمتعلق رپورٹ جاری کی ہے، جس میں بتایا گیا ہے دنیا بھر میں آلودہ ہوا میں سانس لینے کے نتیجے میں ہر سال قریب سات ملین انسان ہلاک ہو جاتے ہیں۔ ہلاک ہونے والےتقریبا سبھی ایشیا اورافریقہ کے غریب ملکوں سےتعلق رکھتے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے اعداد وشمارکے مطابق فضائی آلودگی سےایک چوتھائی اموات فضائی آلودگی کی وجہ سے ہونے والی دل کی بیماریوں،فالج اورگردوں کے کینسر سے ہوتی ہیں، بیرونی آلودگی کے علاوہ اندرونی یا گھروں کے اندر پیدا ہونے والی آلودگی کی شرح بھی تشویشناک ہے۔

عالمی ادارے کے مطابق غریب ملکوں کے رہائشی صاف فیول مثلا گیس یا بجلی کے بجائے ٹھوس فیول یا کروسین سے کھانا پکانے پرمجبورہیں، آلودگی سے سب سے زیادہ متاثربچے اورخواتین ہوتے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق صنعتوں، گاڑیوں اور ٹرک کا دھواں فضائی آلودگی کی اہم وجہ ہے جس سے ہر سال 4.2 ملین افراد کی اموات ہوتی ہے جب کہ جنگلات کی کٹائی اور عمارتوں کی تعمیر میں اضافہ ہر سال 3.8 ملین افراد کی اموات کا سبب بنتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے دنیا میں 90 فیصد انسان آلودہ فضاء میں سانس لینے پر مجبور ہیں، آلودہ فضاء سانس لینے میں دشواری پیدا کرتی ہے، جس سے پھیپھڑوں کا مرض، حرکت قلب متاثر ہونا اور دیگر مہلک بیماریوں کا خدشہ لاحق ہوجاتا ہے۔


نئی دلی دنیا کا سب سے آلودہ شہر قرار


دوسری جانب عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ بھارتی دارالحکومت نئی دلی کو دنیا کا سب سے آلودہ شہر قرار دیا گیا ہے جبکہ دنیا کے سب سے زیادہ 20 آلودہ شہروں میں سے 14 بھارتی شہرہے، جن میں نئی دلی سمیت ممبئی، پٹنا، آگرہ، واراناسی، جےپور اور جودھ پور بھی شامل ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق آلودہ ترین شہروں میں نئی دلی پہلے، مصر کا شہر قاہرہ دوسرے ، بنگلا دیش کا دارالحکومت ڈھاکا تیسرے، بھارت کا شہر ممبئی چوتھے اور چین کا داراحکومت بیجنگ پانچویں نمبر پر ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل تیدروس آدھانوم گیبرائسس نے دنیا بھر کی حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ  ایسے مؤثر اقدامات کریں، جن کی مدد سے ہلاکت خیز فضائی آلودگی کا سدباب کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت عالمی سطح پر ہر دس میں سے نو انسان ایسی الودہ ہوا میں سانس لینے پر مجبور ہیں، جس میں مضر صحت مادوں کی شرح خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں