The news is by your side.

Advertisement

مقبوضہ کشمیر میں غیرانسانی کرفیو کے خلاف بھارت سے بھی آوازیں اٹھنے لگیں

سری نگر: مقبوضہ وادی میں بھارتی لاک ڈاؤن 74ویں روز میں داخل ہوگیا، کشمیری روز مرہ کی ضروری اشیاء خریدنے سے قاصر ہیں، دودھ بچوں کی خوراک، ادویات سب ختم ہوچکا ہے۔

تفصیلات کے مطابق آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد مقبوضہ کشمیر میں کرفیو 74ویں روز بھی جاری ہے، وادی میں اسکول ، کالج اور تجارتی مراکز بھی بند پڑے ہیں۔

وادی میں لاک ڈاؤن کے باعث کشمیریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ کرفیو اور پابندیوں کے باعث اب تک مقامی معیشت کو ایک ارب ڈالر کا نقصان ہوچکا ہے جبکہ ہزاروں لوگ بے روزگار ہوچکے ہیں۔

مواصلاتی نظام کی بندش سے کشمیری شدید ذہنی اذیت کا شکار ہیں جبکہ گھروں میں ادویات اور کھانے کا ذخیرہ ختم ہونے کے باعث موت آہستہ آہستہ کشمیریوں کی طرف بڑھ رہی ہے۔

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کی جانب سے ظلم وبربریت اور غیرانسانی کرفیو کے خلاف بھارت سے بھی آوازیں اٹھنے لگی ہیں۔ بھارت کے مختلف تعلیمی اداروں کے 132 طلبا اور اساتذہ نے مودی سرکار کو مقبوضہ وادی سے لاک ڈاؤن ختم کرنے کے لیے خط لکھا ہے۔

مودی سرکار کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی تشدد کو بند اور سیاسی قیادت کو رہا کیا جائے جبکہ غیرانسانی کرفیو کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ تقریباََ 80 لاکھ کشمیری 2 ماہ سے لاک ڈاؤن کا شکار ہیں اور ان کا کسی سے کوئی رابطہ نہیں ہے، موبائل فون اور انٹرنیت سروس بھی بند ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز جنت نظیر وادی کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں نام نہاد آپریشن کے دوران بھارتی فورسز نے 3 کشمیری نوجوانوں کو شہید کیا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں