بلاشبہ روزہ ایک مقدس عبادت ہے اور اس کا اجروثواب صرف پروردگار ہی دے سکتا ہے مگر روزے کے نتیجے میں انسان کو ایسے حیرت انگیز طبی فوائد حاصل ہوتے ہیں جن کا عام لوگ تصور بھی نہیں کرسکتے.
سائنس بھی ثابت کرچکا ہے کہ روزے کے انسانی صحت پر بے شمار فوائد ہیں۔
بین الاقوامی کانگریس کی جانب سے 1994 میں کاسا بلانکا میں ”رمضان اور صحت” پر کانفرنس منعقدکی گئی،اس کانفرنس میں رمضان اور صحت پر پچاس مقالوں کاجائزہ لیا گیا، جس میں روزہ رکھنے والوں کی صحت پرناقابل یقین بہتری ریکارڈکی گئی۔
کانفرنس میں پیش کیے گئے مقالوں کے مطابق ان لوگوں کی صحت پر منفی اثرات ریکارڈ کیے گئے جنہوں نے افطارکے وقت ضرورت سے زیادہ کھاناکھایااور ٹھیک سے نیند پوری نہیں کی۔
ماہرین کے مطابق روزہ دل ودماغ کو سکون فراہم کرتا ہے۔
روحانیت سے بھرپور اس ماہ میں افطار کے دستر خوان پرتمام خاندان ایک ساتھ اکٹھے ہوتے ہیں جس سے آپس میں محبت بڑھتی ہے اور ان تمام تر عادات سے امن وسکون اور اطمینان نفس کا احساس پیدا ہوتا ہے۔
روزے دار سے متعلق اللہ تعالی فرماتا ہے کہ
’’روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا اجردوں گا‘‘
روزہ خون کی روانی کو بہتر بنانے میں مدد فراہم کرتا ہے۔1997میں غذائیت سے متعلق اسٹدی میں پتہ چلا کہ روزہ بُرے کولیسٹرول کو کم کرتا ہے اور اچھے کولیسٹرول کی مقدار میں اضافہ کرتا ہے۔
رمضان میں کھجور،گری دار میوے اورگھر کے پکے ہوئےکھانے کو ترجیح دی جاتی ہے۔فاسٹ فوڈ کا استعمال رمضان میں کم ہوجاتاہے۔رمضان میں رات کو تراویح ورزش کا کام کرتی ہےجس سے ناصرف روحانی فوائد حاصل ہوتے ہیں بلکہ انسانی جسم بھی تندرست رہتا ہے۔
روزہ رمضان میں ایک بہترین موقع فراہم کرتا ہےجس کے ذریعے انسان مختلف بُری عادتوں سے دور رہتا ہے،کیونکہ روزہ ہمیں خود پر کنٹرول کرنا اور پرہیزگاری سکھاتا ہےاور احساس دلاتا ہے کہ انسان تمباکو نوشی یا ایسی ہی کسی دوسری منشیات سمیت اپنی بُری عادتوں کی لت سے چھٹکارا حاصل کرسکتا ہے۔
رمضان میں کیلوریز کی مقدار میں کثرت سے کمی واقع ہوتی ہے، اس کی ایک وجہ فاسٹ فود اور ایسے کھانوں کا استعمال کم ہونا ہے جس سے کیلوریز کی مقدار میں کمی ہونے کے ساتھ انسانی جسم میں حیرت انگیز تبدیلی رونما ہوتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ روزہ انسان کی ظاہری خوبصورتی، جلد کی تازگی، بالوں حتیٰ کے ناخنوں کے لیے بھی مفید ثابت ہوتا ہے.
روزے کے بغیر انسانی جسم کی طاقت اور توانائی نظام انہضام کی وجہ سے صرف ہوتی ہے ، مگر سولہ گھنٹے کے روزے کے بعد جسم کی توانائی نظام انہضام کی ہدایت پر کام نہیں کرتی، سولہ گھنٹے کے روزے کے بعد انسانی جسم میں موجود زیرہلا مواد اوردیگر فاسد مادے ختم ہوجاتے ہیں.یوں جسم کو فاسد مادوں سے نجات ملتی ہے.
یہ تاثر غلط ہے کہ روزہ انسان کو کمزور بنادیتا ہے،روزہ رکھنےسے انسان بڑھاپے کو روکنے کی کامیاب کوشش کررہاہوتا ہے.روزے کی حالت میں انسانی جسم میں موجود ایسے ہارمونز حرکت میں آجاتے ہیں جو بڑھاپے کے خلاف مزاحمت کرتے ہیں.روزے سے انسانی جلد مضبوط اور اس میں جھریاں کم ہوتی ہیں.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے
’’صومو تصحوا – یعنیٰ روزہ رکھو صحت پاؤ‘‘
آئے دن روزے کے طبی فوائد سامنے آرہے ہیں، روزہ کینسر ، امراض قلب اور شریانوں کی بیماریوں کے آگے ڈھال ہے.
گرمی کے موسم میں انسانی جسم کو روزے کے عالم میں پانی کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے.سخت گرمی میں جلد جھلس جانی ہے، ماہرین صحت تجویز دیتے ہیں کہ افطاری کے بعد اور سحری کے اوقات میں پانی کا بہ کثرت استعمال کیا جائے. اس سے جلد کو تازہ رکھا جاسکتا ہے.
انسانی جلد ناخنوں پر بھی روزے کے مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں، ناخن سر کےبالوں کی نشونما اور ان کی مضبوطی میں اضافہ ہوتا ہے. روزے کی حالت میں جسم ان ہارمونز کو پھیلاتا ہےجو جلد کو خوبصورتی اور ناخنوں کی چمک اور بالوں کی مضبوطی کا سبب بنتے ہیں، یہاں تک کہ روزے سے انفیکشن بیکٹیریا کی روک تھام اور بڑھاپے کے خلاف مزاحمت کرتا ہے.
روزے کے فیوض وبرکات سے یوں تو مسلمان صدیوں سے مستفید ہوتے آرہے ہیں،لیکن جیسے جیسے سائنس ترقی کی منازل طے کرتا جارہا ہے ویسے ویسے روزے کے سائنسی اور طبی فوائد بھی سامنے آتے جارہے ہیں.