تازہ ترین

سیشن جج وزیرستان کو اغوا کر لیا گیا

ڈی آئی خان: سیشن جج وزیرستان شاکر اللہ مروت...

سولر بجلی پر فکسڈ ٹیکس کی خبریں، پاور ڈویژن کا بڑا بیان سامنے آ گیا

اسلام آباد: پاور ڈویژن نے سولر بجلی پر فکسڈ...

انٹرنیٹ استعمال کرنے والے پاکستانیوں کیلیے بُری خبر

اسلام آباد: انٹرنیٹ استعمال کرنے والے پاکستانیوں کیلیے بری...

بہت جلد فوج سے مذاکرات ہوں گے، شہریار آفریدی کا دعویٰ

اسلام آباد: سابق وفاقی وزیر و رہنما پاکستان تحریک...

چھ لاکھ 70 ہزار غیر ملکی سعودی عرب چھوڑ دیں گے،رپورٹ

ریاض: سعودی عرب میں غیر ملکی باشندوں اور ان کی فیملی پر ٹیکس عائد ہونے کے سبب اگلے 3 برس میں 6 لاکھ 70 ہزار غیر ملکی اور ان کے اہل خانہ سعودی عرب چھوڑ دیں گے۔

یہ رپورٹ Banque Saudi Fransi نامی معروف مالیاتی ادارے کی جانب سے تیار کی گئی جسے مکہ اخبار نے روزنامے اور ویب سائٹ پر شائع کیا۔

رپورٹ کے مطابق فیملی ٹیکس (لیوی ٹیکس) کے سبب ہر سال تقریباً 1 لاکھ 65 ہزار غیر ملکی باشندے سعودی عرب سے اپنے وطن واپس روانہ ہوجائیں گے، 3 سال میں 2020ء تک یہ تعداد 6 لاکھ 70 ہزار تک پہنچ جائے گی۔

رپورٹ میں یہ کہا گیا ہے کہ غیر ملکی ملازمین کے اہل خانہ پر عائد کردہ فیملی ٹیکس کی مد میں حکومت کو اربوں ڈالر کی اضافی آمدنی ہوگی۔

اسی سے متعلق: سعودی عرب کی کل آبادی کا 40 فیصد غیر ملکی باشندے 

خیال رہے کہ سعودی حکام کی جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق ریاست میں 1 کروڑ 11 لاکھ سے زائد غیر ملکی باشندے موجود ہیں جن میں سے 74 لاکھ ملازمین اور بقیہ 43 لاکھ ان کے اہل خانہ ہیں۔

ملک بھر میں پاسپورٹ حکام نے یکم جولائی سے فیملی ٹیکس کی وصولی شروع کردی ہے جو کہ اقامہ کی تجدید کے وقت وصول کی جارہی ہے۔

یاد رہے کہ اہل خانہ کا ہر فرد یکم جولائی سے 100 ریال ماہانہ ادا کررہا ہے بعدازاں یہ رقم ہر سال 100 ریال اضافے سے 2020ء تک 400 ریال تک پہنچ جائے گی۔

یہ پڑھیں:غیر ملکی بے چین، اہل خانہ کو واپس بھیجنے کا فیصلہ

لیوی ٹیکس کے سبب غیر ملکی باشندے  بے چین ہیں اور وہ اہل خانہ کے اقامہ میں توسیع کے بجائے انہیں واپس وطن بھیجنے کا فیصلہ کررہے ہیں۔

Comments

- Advertisement -