اشتہار

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے نکالا تو؟ روس کا سخت انتباہ

اشتہار

حیرت انگیز

اقوام متحدہ میں روس کے نائب مستقل نمائندے دیمتری پولیانسکی نے واضح کیا ہے کہ روس کو سلامتی کونسل سے صرف اقوام متحدہ کے خاتمے کی صورت میں ہی نکالا جاسکتا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق اقوام متحدہ میں روس کے پہلے نائب مستقل نمائندے دیمتری پولیانسکی نے یہ سخت بیان یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کی جانب سے روس کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت ختم کرنے کے مطالبات پر دیا ہے۔

روسی نمائندے دیمتری پولیانسکی نے کہا کہ یوکرینی صدر زیلنسکی کے مطالبات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ریمارکس سلامتی کیلیے کارگر نہیں ہیں، ایک غیر ملکی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے روسی نمائندے کا کہنا تھا کہ لوگ جانتے ہیں کہ روس کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے نکالنا صرف اسی صورت ممکن ہوگا جب اقوام متحدہ کو ختم کردیا جائے اور اسے نئے سرے سے تشکیل دیا جائے۔

- Advertisement -

روسی نمائندے کا یہ بھی کہنا تھا کہ یوکرائنی صدر ولادیمیر زیلنسکی کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے سامنے کونسل کے دیگر اراکین سے پیشگی مشاورت کے بغیر بات کرنے کی اجازت دی گئی، جو موجودہ طرز عمل کی خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کیف کا کام اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے رکن ممالک کو “اشتعال دلانا” تھا، جو یوکرائنی مسئلے سے تیزی سے تنگ آ رہے ہیں۔ پولیانسکی کے مطابق یوکرینی صدر زیلینسکی اور اقوام متحدہ میں یوکرین کے ایلچی دونوں ہی اپنی سانسیں ضائع کر رہے ہیں، وہ وقتاً فوقتاً یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ روس کا اس اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی نشست پر کوئی حق نہیں ہے، کہ ہم نے اسے سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد غیر قانونی طور پر برقرار رکھا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ سراسر مضحکہ خیز ہے ہم نے اس کی وضاحت کی ہے اور یہاں تک کہ اقوام متحدہ کے حکام نے بھی مناسب وضاحتیں فراہم کی ہیں۔

Comments

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں