منگل, مئی 14, 2024
اشتہار

افغانستان بھر میں یونیورسٹیز کے باہر طالبات کے مظاہرے

اشتہار

حیرت انگیز

طالبان حکومت کی جانب سے خواتین پر اعلیٰ تعلیم کے دروازے بند کیے جانے کے فیصلے کیخلاف طالبات نے افغانستان بھر میں یونیورسٹیز کے باہر احتجاجی مظاہرے کیے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق طالبان حکومت نے افغانی خواتین پر اعلیٰ تعلیم کے دروازے بند کرتے ہوئے گزشتہ روز ان کے یونیورسٹیز میں داخلوں پر پابندی عائد کردی تھی اور اس حوالے سے افغان وزارت تعلیم کی جانب سے جامعات کو حکمنامہ جاری کیا گیا تھا جس میں یونیورسٹیز انتظامیہ کو لڑکیوں کو داخلے نہ دینے کا حکم دیا گیا ہے۔

طالبان حکومت کے اس اقدام کے خلاف افغانستان بھر میں طالبات احتجاج پر مجبور ہوگئی ہیں اور وہ یہ ظالمانہ اقدام واپس لینے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔

- Advertisement -

افغانی طالبات نے اپنا تعلیمی حق غصب کیے جانے کے حکومتی فیصلے کے خلاف ملک بھر کی یونیورسٹیز کے باہر احتجاجی مظاہرے کیے ہیں جس میں طالبات نے یونیورسٹیز میں خواتین کے داخلوں پر عائد پابندی ختم کرنے کا مطلبہ کیا۔

اس موقع پر سیکیورٹی فورسز نے طالبات کو روکنے کے لیے شاہراہوں کو بلاک کردیا تاہم وہ طالبات کو نہ روک پائے۔

خواتین کے احتجاج میں ننگرہار یونیورسٹیز کے طلبہ نے طالبات سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے امتحانات میں بیٹھنے سے انکار کردیا ہے۔

دوسری جانب طالبان حکومت کے اس اقدام کو دنیا بھر میں تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ امریکا، پاکستان، او آئی سی، سعودی عرب، قطر نے بھی طالبان حکومت سے خواتین کی تعلیم پر پابندی کا فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کردیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: افغان حکومت نے خواتین پر دروازے بند کر دیے، حکمنامہ جاری

اس حوالے سے سیکریٹری جنرل اقوامِ متحدہ انتونو گوتریس کا کہنا ہے کہ طالبان کی جانب سے لرکیوں کی اعلیٰ تعلیم پر پابندی سے صدمہ پہنچا ہے۔ سعودی عرب نے کہا کہ فیصلہ افغان خواتین کے جائز شرعی حقوق کے منافی ہے۔ او آئی سی نے کہا ہے کہ افغان حکومت کے فیصلے پر تشویش ہے۔

Comments

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں