اشتہار

اردو بولنے پر طالب علم کو سزا، اسکول نے غلطی تسلیم کر لی، ٹیچر فارغ

اشتہار

حیرت انگیز

کراچی: شہر قائد کے ایک نجی اسکول میں خاتون ٹیچر کی جانب سے اردو بولنے پر ایک طالب علم کو منہ پر سیاہ دھبہ لگا کر سزا دینے کے معاملے میں اسکول نے اپنی غلطی تسلیم کر لی، اور ٹیچر کو نوکری سے فارغ کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق کراچی کے نجی تعلیمی ادارے سولائزیشن پبلک اسکول میں اردو بولنے پر ایک ننھے طالب علم کو سزا دینے کے معاملے پر اسکول انتظامیہ نے اپنا مؤقف جاری کر دیا ہے۔

ممبر بورڈ آف ڈائریکٹرز سبطین نقوی نے وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے اپنی غلطی تسلیم کر لی، اور کہا کہ اسکول کی ایک ٹیچر نے بچے کو اردو بولنے پر شرمندہ کیا، جس پر مذکورہ خاتون ٹیچر کو اسکول سے فارغ کر دیا گیا ہے۔

- Advertisement -

انھوں نے وضاحت کی کہ 27 جنوری کو پیش آنے والا واقعہ ہمارے فلسفے اور سوچ کے خلاف ہے، واقعے کی مرتکب خاتون ٹیچر کا استعفیٰ منظور کر لیا گیا ہے اور وہ اب اسکول کا حصہ نہیں ہیں۔

کراچی: نجی اسکول میں اردو بولنے پر طالب علم کے منہ پر کالک لگادی گئی

سبطین نقوی نے کہا ’’ہمارے ہاں اردو پڑھائی جاتی ہے، مشاعرے اور ادبی تقاریب کا انعقاد کیا جاتا ہے، اسکول کی ایسی کوئی پالیسی نہیں کہ کسی بچے کو شرمندہ کیا جائے۔‘‘

انھوں نے کہا ’’جو واقعہ پیش آیا وہ ہمارے اسکول کے فلسفے اور سوچ کے خلاف تھا، سِولائزیشن اسکول اردو کی ترویج میں اپنا واضح کردار ادا کرتا رہا ہے۔‘‘

سبطین نقوی نے کہا کہ اسکول ماضی میں افتخار عارف، فہمیدہ ریاض اور امجد اسلام امجد جیسے نامور شعرا کے مشاعرے بھی منعقد کر چکا ہے، اور اسکول کسی صورت انگریزی کو اردو پر ترجیح نہیں دیتا۔

Comments

اہم ترین

انور خان
انور خان
انور خان اے آر وائی نیوز کراچی کے لیے صحت، تعلیم اور شہری مسائل پر مبنی خبریں دیتے ہیں

مزید خبریں