اشتہار

قومی اسمبلی: سپریم کورٹ کےفیصلوں سےمتعلق نظرثانی بل کثرت رائے سےمنظور

اشتہار

حیرت انگیز

اسلام آباد: قومی اسمبلی نے ڈیم فنڈز کی رقم قومی خزانے میں جمع کرانے سمیت سپریم کورٹ کےفیصلوں سےمتعلق نظرثانی بل کثرت رائےسےمنظور کرلیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق اسپیکر راجا پرویز اشرف کی زیر صدارت اجلاس قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا، اجلاس کے آغاز پر قومی اسمبلی میں معمول کی کارروائی معطل کرنے کی تحریک پیش کی گئی جسے ایوان زیریں نے منظور کرلیا۔

بعد ازاں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے نیب آرڈیننس 1999 میں ترمیمی بل دو ہزار تئیس پیش کیا گیا جسے متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا۔

- Advertisement -

سپریم کورٹ کےفیصلوں سےمتعلق نظرثانی بل کثرت رائےسےمنظور

قومی اسمبلی کے اجلاس میں سپریم کورٹ کےفیصلوں سےمتعلق نظرثانی بل کو بھی کثرت رائےسےمنظور کیا گیا، بل میں مطالبہ کیا گیا کہ آرٹیکل184کےتحت نظرثانی درخواستوں پرفیصلےکیلئےبڑابینچ تشکیل دیاجائے۔

اس کے علاوہ قومی اسمبلی میں نظرثانی کی درخواست دینےوالےکو اپنی مرضی کےوکیل کی خدمات کااختیاردینےکی تجویز بھی پیش کی گئی جس میں کہا گیا کہ فیصلہ یاآرڈرجاری ہونےکےدو ماہ کےاندرنظرثانی کی درخواست دائرکی جاسکےگی۔

بل کے مطابق قانون کی منظوری سےپہلے184تین کےتحت فیصلوں اوراحکامات پراطلاق ہوگا،پرانےفیصلوں پرنظر ثانی کی درخواستیں قانون کےاطلاق کے تیس دن کےاندردائر کی جا سکیں گی۔

ڈیم فنڈز کی رقم قومی خزانے میں جمع کرانے کی قرارداد منظور

قومی اسمبلی میں آج ایک اور اہم ترین قرارداد منظور کی گئی، ایوان نے مطالبہ کیا کہ ڈیم فنڈز کی رقم قومی خزانے میں جمع کرائی جائے، اس وقت ڈیم فنڈ ز میں16.53 ارب ہیں جواگلی سہ ماہی میں 16.98ارب ہوجائیں گے۔

قرارداد میں کہا گیا کہ مذکورہ وسائل تباہ کن سیلاب کےمتاثرین کی مدد اوربحالی کیلئےاستعمال کیےجائیں۔

اس کے علاوہ قومی اسمبلی میں ایک اور قرارداد منظور کی گئی جس میں کہا گیا کہ یہ ایوان سپریم کورٹ کی مداخلت کی کوشش کومستردکرتاہے، سپریم کورٹ ایوان کےاختیارسلب کرسکتاہےاورنہ ہی مداخلت کرسکتاہے۔

قرارداد میں کہا گیا کہ ایک ادارے نےآئین کی خلاف ورزی کی جوخود آئین کےاندرناپسندیدہ فعل ہے۔

بعد ازاں قومی اسمبلی کا اجلاس پیر کی شام تین بجے تک ملتوی کردیا گیا۔

Comments

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں