واشنگٹن: کئی مرتبہ غزہ میں جنگ بندی سے متعلق یو این قراردادوں کو ویٹو کرنے والے امریکا نے سلامتی کونسل سے غزہ میں جنگ بندی کے لیے ووٹنگ کی درخواست کر دی ہے۔
تفصیلات کے مطابق امریکا نے اتوار کو اعلان کیا کہ اس نے اسرائیل اور حماس کے درمیان ’یرغمالیوں کی رہائی اور فوری جنگ بندی‘ کے منصوبے پر مشتمل قرارداد کے مسودے پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے ووٹنگ کی درخواست کی ہے۔
اے ایف پی کے مطابق امریکی سفارتی ذرائع نے بتایا کہ قرارداد پر ووٹنگ پیر کو کیے جانے کا منصوبہ ہے، تاہم ابھی تک جنوبی کوریا کی طرف سے اس کی تصدیق نہیں کی گئی ہے، جو جون کے مہینے کے لیے سلامتی کونسل کی صدارت کر رہا ہے۔
امریکی وفد کے ترجمان نیٹ ایونز نے کہا آج امریکا نے سلامتی کونسل سے ووٹنگ کروانے کا مطالبہ کیا ہے، کونسل کے ارکان کو اس موقع کو ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہیے اوراس معاہدے کی حمایت میں یک آواز بولنا چاہیے۔
نیتن یاہو حکومت کو بڑا دھچکا، اہم وزیر مستعفی
امریکی صدر جو بائیڈن نے 31 مئی کو فوری جنگ بندی کی تجویز پیش کی تھی، تجویز کے تحت اسرائیل غزہ کے آبادی والے علاقوں سے نکل جائے گا اور حماس یرغمالیوں کو آزاد کر دے گی، جب کہ جنگ بندی ابتدائی 6 ہفتوں تک جاری رہے گی۔
یاد رہے کہ اسرائیل کے کٹر اتحادی امریکا نے اقوام متحدہ کی متعدد قراردادوں کے مسودے روکے، جن میں غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا تھا، قتل عام روکنے کے لیے لائی جانے والی ان قراردادوں کو ناکام بنانے پر امریکا پر بڑے پیمانے پر تنقید کی گئی۔