منگل, اپریل 1, 2025
اشتہار

مصطفیٰ عامر قتل کیس کے حوالے سے اہم معلومات سامنے آگئی

اشتہار

حیرت انگیز

کراچی : مصطفیٰ عامر قتل کیس کے حوالے سے اہم معلومات اور تصاویری ثبوت پر مشتمل بریفنگ سامنے آگئی۔

تفصیلات کے مطابق مصطفیٰ عامرقتل کیس سے متعلق قومی اسمبلی کمیٹی برائے داخلہ کی ذیلی کمیٹی کو آج بریفنگ کیا جائے گا۔

کیس کے حوالے سے اہم معلومات اور تصاویری ثبوت پر مشتمل بریفنگ سامنے آگئی، اسپیشلائزڈ یونٹ نے پانچ نکات کی 38 صفحات پر جامع بریفنگ تیار کی۔

بریفنگ میں بتایا گیا مصطفی عامر 6 جنوری کو لاپتہ ہوا ،والدہ نے 7 جنوری کو رپورٹ کیا، تفتیش میں پتہ چلا ارمغان اور شیراز نے مصطفی عامر کو قتل کیاہے، تفتیشی افسر نے مقتول کی والدہ دوستوں ،عزیزوں کے بیانات ریکارڈ کیے۔

بریفنگ میں کہنا تھا کہ مصطفی عامر کےسابقہ ریکارڈ کیلئےاے این ایف ودیگر اداروں سے رابطہ کیاگیا، کلفٹن اور ڈی ایچ اے کے مشتبہ علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیجز حاصل کی، تین مشتبہ افراد رافع، مارشا اور ارمغان سے تفتیش کی گئی۔

بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ موبائل فون کا استعمال نہیں کیا گیا، صرف وائی فائی ڈیوائس استعمال ہوئی، بدستیاب سم کا ریکارڈ صرف 24 دسمبر 2024 تک کا ملا تھا، کوئی شخص اس تاریخ اور وقت پر ان سے نہیں ملا تھا اور 26 اسٹریٹ پر غیرمصدقہ ویڈیو اور بنوں میں لاسٹ لوکیشن کی غلط خبر ملی۔

اسپیشلائزڈ یونٹ کا کہنا تھا کہ 25جنوری کو مصطفی عامر کی والدہ سے واٹس ایپ پر2 کروڑ تاوان مانگا گیا، کالر نے تاوان کی رقم 5 ہزار والے نوٹوں کی شکل میں لیاری لانے کا کہا، تاوان کی کال موصول ہونے پر کیس 30 جنوری کو اے وی سی سی منتقل کیا گیا۔

اسپیشلائزڈ یونٹ نے کہ مصطفی عامر کے دوستوں سے تفتیش ہوئی تو پتہ چلا ارمغان نے مصطفی کو دھمکی دی تھی، ٹیکنیکل طریقے سے مصطفی عامر کی ڈیوائس کی لوکیشن معلوم کی گئی۔

بریفنگ میں بتایا کہ ارمغان کے 4ایڈریس ملے، 5 فروری کو خیابان مومن بنگلےپر موومنٹ ہوئی، مغوی کی بحفاظت ریکوری کے لیے چاروں پتوں پر نگرانی جاری رکھی، 6فروری کوخیابان مومن کے بنگلے پر ارمغان کی موجودگی کا پتہ چلا اور 8فروری کو وارنٹ حاصل کرنے کے بعد بنگلے پرچھاپہ مارا گیا اور 3گھنٹے جدوجہد کے بعد ارمغان گرفتار ہوا بنگلے سے مصطفی عامر کا موبائل ملا، جس کے بعد ارمغان کے ملازم زوہیب اور مصطفی کو بھی حراست میں لیا گیا۔

تفتیش کے دوران ارمغان نے شاہ ویز کیساتھ ملکر مصطفی عامر کےقتل کا اعتراف کیا جبکہ ملزم زوہیب اور مصطفی نے گولیاں چلنے کی آواز سننے کا اعتراف کیا، دونوں ملازمین نے بتایا کہ انہوں نے جائے حادثہ سےخون صاف کیا اور پہلی مرتبہ تفتیش کے دوران شریک ملزم شیراز بخاری کا پتہ چلا۔

بریفنگ میں عدالتی چارہ جوئی سے متعلق تمام معلومات فراہم کی گئیں اور بتایا بتایا گیا کہ ملازم زوہیب اور مصطفی سے تفتیش کے بعد دوبارہ گھر پر ٹیم پہنچی، ملازمین کی نشاندہی پر وہ جگہ دیکھی جہاں مصطفی عامر کو مارا گیا تھا، کرائم سین سے ملنے والے بلڈسیمپل مصطفی عامر کی والدہ کےڈی این اےسے میچ کرگئے جبکہ رپورٹ میں ایک اور خاتون زوما کے خون ملنے کے شواہد بھی ملے۔

اسپیشلائزڈ یونٹ کا کہنا تھا کہ 14 فروری کو ساتھی ملزم شیراز بخاری گرفتار ہوا تو تفتیش مزید آگے بڑھی، شیراز نے مصطفی عامرپر تشدد سے لے کر قتل اور جلانے تک کا انکشاف کیا اور عدالتی احکامات پر 21 فروری کو قبرکشائی کرکے لاش نکالی گئی۔

بریفنگ میں اب تک ہونے والی تمام تفتیش تصاویر کے ساتھ لگائی گئی ہیں جبکہ ساحر حسن کامران قریشی کی گرفتاری کی تفصیلات بھی موجود ہیں۔

کیس پر ایف آئی اے سائبرکرائم اور اینٹی منی لانڈرنگ ونگ ، ہتھیاروں پر سی ٹی ڈی اور منشیات پر اے این ایف ،ایس آئی یو کام کررہی ہیں۔

اہم ترین

نذیر شاہ
نذیر شاہ
نذیر شاہ کراچی میں اے آر وائی نیوز کے کرائم رپورٹر ہیں

مزید خبریں