The news is by your side.

Advertisement

بی عورت کی کہانی بُوا صداقت کی زبانی

مرد لاکھ عیبی سہی، مگر اللہ کا فضل ہے کہ عیب جُو اور عیب بیں نہیں۔

میں نے آج تک کسی مرد کو مردوں کی برائی کرتے نہیں سنا، خواہ تمام مرد جھوٹ بولیں، لیکن مردوں کا قول ضربُ المثل ہے۔

شاید اسی صفت نے مرد کے عیبوں پر پردے ڈال رکھے ہیں مگر عورتوں کے لیے تو نہ مرد اچھے نہ عورتیں۔ ان لوگوں میں انگشت نمائی اور نکتہ چینی اس قدر عام ہے کہ الٰہی توبہ۔ ماں سے بیٹی کی برائی سن لو اور بیٹی سے ماں کی خرابیاں۔

ایک گھر میں چار عورتیں ہوں کیا مجال چاروں ایک دوسرے کو اچھا سمجھیں۔ جب دیکھو نوک جھونک، سر پھٹول۔ ایک میں ایک کیڑے ڈالے گی اور الم نشرح کرتی پھرے گی۔

محلّے بھر کی رپورٹ ان کے دل پر لکھی ہوتی ہے۔ فلاں کی بیٹی کا فلاں سے معاشقہ ہے۔ فلاں کی ساس نے بیٹے کے کان بھر کر بہو کو گھر سے نکلوایا۔ فلاں کے گھر میں فلاں عیب ہے۔ غرض جتنے شیطانی کام ہوں سب کی داستان اس خدائی فوجدار سے سن لو۔ ہاں اگر کسی کی نیکی کا ذکر کیجیے تو بے نیازی کا یہ عالم ہوتا ہے کہ بس نہیں چلتا، کانوں میں روئی ٹھونس لیں۔ جو کبھی کچھ کہا بھی تو بس یہ کہ ہم کیا جانیں۔ نیکی کرتی ہوں گی تو اپنے لیے۔ کوئی ہمیں تھوڑی دے جائیں گی۔

صداقت بُوا لاکھ نیکیوں کی نیک سہی، مگر ہیں تو آخر عورت ہی۔ انھیں بھی اپنی قوم سے اللہ واسطے کابیر ہے اور سب باتوں سے زیادہ عزیز آج کل والیوں کا رونا ہے۔ میں بھی ان کی رگ رگ سے اچھی طرح واقف ہوں۔ جب کبھی فرصت ہوتی ہے اور ان کی شعلہ بیانی سے لطف اندوز ہونے کو جی چاہتا ہے تو کہیں نہ کہیں سے بات نکال نکول کر اسی موضوع پر لے آتا ہوں۔

’’دادی اب تو لڑکیوں نے بھی بڑی ترقّی کرلی ہے۔ ہزاروں لاکھوں کالجوں میں پڑھتی ہیں۔ ہر کام میں مردوں سے آگے ہیں۔‘‘ میں تو اتنا کہہ کر چُپ ہوا اور وہ آئیں تو جائیں کہاں۔ ’’نہ بیٹا ہمارے زمانے میں تو لڑکی کا گھر سے نکلنا عیب سمجھتے تھے، ہم کیا جانیں موئے لڑکوں کے ساتھ کالج میں پڑھنا اور پھر نوکری کے لیے جوتیاں چٹخاتے پھرنا۔ پہلے تو ادھر میٹھا برس لگا اور ادھر ماں باپ نے آدھی پاؤلی کا مزدور دیکھ کر ہاتھ پیلے کیے۔ لو جی لڑکی پرائے گھر کی ہوئی۔

ائے نوج جو ہمیں کمانا پڑتا، ہمارے میاں، اللہ بخشے، کہتے تھے کہ عورت کی کمائی میں برکت نہیں ہوتی۔ جو کبھی کبھار میں نے وقت گزارنے کو دو ٹکے کی گجائی بھی لپیٹی تو انھوں نے سیکڑوں صلواتیں سنا دیں۔ میں کہتی تھی کہ خالی سے بیگار بھلا، مگر وہ، اللہ بخشے، ایسے ہنکارتے کہ کیا بتاؤں۔

اور بھئی وہ مثل ہے نا کہ خدا کی طرف سے بھی شکر خورے کو شکر اور موذی کو ٹکر۔ تو ہمیں کبھی پیسے کوڑی کی تکلیف نہیں ہوئی۔ جب تک وہ رہے، خدا انھیں کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے، بیگموں کی طرح راج کیا۔ صبح اٹھے خزان کے ہاں سے دونا بھرا حلوہ بیوڑی کا لے آئے۔ لو بھئی دونوں نے ناشتہ کرلیا۔ چائے وائے کا ان دنوں رواج ہی نہ تھا۔ موئے انگریز مفت بانٹتے تھے، مگر لوگوں نے پڑیا لی اور نالی میں الٹ دی۔ ائے ہاں کون پیتا کڑوا کسیلا جوشاندہ سا۔ اب دیکھو تو کوئی چائے بغیر ہلتا ہی نہیں۔ ناشتہ کر وہ تو اپنے کام پر چلے جاتے اور میرے پاس آنے جانے والیوں کا سلسلہ لگتا۔ ذرا دیر میں اچھی خاصی محفل ہو جاتی۔ پٹاری کی چوکی گھسیٹ بیچ میں رکھی۔ سب نے کلے تازے کیے اور بھئی باتیں شروع ہوگئیں۔ جھاڑو بہارو، پکانے ریندنے کو ماما ملازم تھی، بس یوں ہی باتوں باتوں میں دن ڈھل جاتا۔

بھلا ہم کیا جانیں بازار والیوں کی طرح مارےمارے پھرنا۔ آج کل والیوں کے تو ہدڑے گئے ہیں۔ پیروں میں بلیاں بندھی ہیں۔ میرے تو دیکھ دیکھ کے ہوش اڑتے ہیں۔ یا اللہ عورتیں کیا ہوئیں خوش بختیاں تماشا ہوگئیں۔ جو برقعے والیاں ہیں، وہ صبح سے شام تک برقعے پھڑکاتی پھرتی ہیں اور جنھوں نے اتار دیے انھیں تو خیر روک ہی کون سکتا ہے۔ خدا کا خوف نہ دنیا کی شرم۔‘‘

میں پہلے تو خاموش بیٹھا مٹر مٹر سنتا رہا۔ پھر آہستہ سے شہ دے دی۔ ’’کیا کیا جائے دادی مرد بھی تو تمھارے وقتوں کے نہیں، اب تو انھوں نے بھی ساری ذمے داری عورتوں پر ڈال دی ہے۔ اگر بیچاریاں تمھاری طرح گھر کی چار دیواری میں بیٹھی رہیں تو سارا گھر چوپٹ ہو جائے۔‘‘

میری حمایت کا اثر ان پر وہی ہوا جس کی مجھے توقع تھی۔ جوش و خروش دوبالا ہو گیا اور بڑی تلملا کر بولیں ’’نہیں جی مرد بیچاروں کا اس میں کوئی قصور نہیں۔ انھیں تو یہ کالے سر والیاں جس طرح چاہیں نچا لیں (ذرا شرما کر) اللہ بخشے اِن کی حیات میں جب میں کسی بات پر اڑ جاتی تھی تو پوری کرا کے ہی چھوڑتی تھی۔ وہ کھسیانے ہو کر کہتے تم تو جھاڑ کا کانٹا بن گئی ہو۔ جو چاہو کرو۔ میں تو تمھارے بھلے کی کہتا ہوں مگر تم جیسی موٹی عقل والی سے کون بحثے۔

بیٹا، تیری تو خیر عمر ہی کیا ہے۔ جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوئے تجھے پیدا ہوئے۔ لوگ مرتے مرگئے پر اس ذات کو نہ سمجھنا تھا نہ سمجھے، مثل مشہور ہے کہ عورت کے سر میں جتنے بال اس سے زیادہ اس میں چلّتر۔

(نام ور ادیب اور تذکرہ و سوانح نگار سیّد ضمیر حسن دہلوی کی تحریر)

Comments

یہ بھی پڑھیں