The news is by your side.

Advertisement

سونے کی تلاش میں کھدائی کے دوران 4 ارب 60 کروڑ سال قدیم پتھر دریافت

کینبرا: آسٹریلیا میں سونا تلاش کرنے والے شخص نے چار ارب 60 کروڑ سال قدیم سرخ پتھر دریافت کرلیا۔

غیر ملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق آسٹریلیا کے شہری ڈیوڈ ہول سونے کی تلاش میں اپنے گھر کے قریب کھدائی کررہے تھے کہ اُن کی نظر ایک عجیب سے سرخ رنگ کے پتھر پر پڑی۔

ڈیوڈ ہول پتھر اٹھا کر ماہرین ارضیات کے پاس گئے جنہوں نے اس پر تحقیق کی تو یہ بات سامنے آئی کہ یہ ٹکڑا دراصل شہابِ ثاقب ہے اور اتنا ہی قدیم ہے جتنی زمین کی عمر ہے۔

ماہرین کے مطابق پتھر 4 ارب 60 کروڑ سال قدیم ہے، سائنسی تاریخ کے حساب سے بھی کرہ ارض کی عمر تقریباً اتنی ہی ہے۔

ماہر ارضیات نے اس ایجاد پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ پتھر دراصل ایچ 5 آرڈینری کونڈرائٹ نامی شہابِ ثاقب ہے، جس کا شمار اُن پتھروں میں ہوتا ہے جو ابتدائی نظام شمسی سے جڑے ہوئے ہیں‘‘۔

بل برچ کا کہنا تھا کہ زمین کے معرض وجود میں آنے کے وقت پتھر کی بھی پیدائش ہوئی، اس ٹکڑے کی تاثیر اور اجزا زمینی پتھروں سے بالکل مختلف ہے جس کی بنیاد پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ خلاء سے زمین پر اُس وقت گرا جب وہ تیار ہوئی‘‘۔

ڈیوڈ ہول کا کہنا تھا کہ گھر کے باہر انہوں نے کھدائی اس چکر میں شروع کی کہ انہیں کسی نے یہ بتایا زمین کے اندر بڑی تعداد میں سونا مدفون ہے البتہ اب وہ پتھر ملنے پر بہت زیادہ خوش ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں