The news is by your side.

Advertisement

ایبٹ آباد میں غیر قانونی کان کنی، پہاڑ میں دراڑیں، آبادی شدید خطرے میں

ایبٹ آباد: خیبر پختونخوا کے شہر ایبٹ آباد میں محکمہ معدنیات اور ضلعی انتظامیہ کی غفلت و بے حسی نے آبادی کی زندگیاں خطرے میں ڈال دیں۔ چلیتر گاؤں میں ہونے والی غیر قانونی کان کنی سے گاؤں کے تمام گھروں میں دراڑیں پڑ گئیں اور پہاڑ سرکنے لگا۔

ایبٹ آباد کے چلیتر گاؤں کے رہائشیوں کی زندگی خطرے میں پڑ گئی۔ ایبٹ آباد میں محکمہ معدنیات اور ضلعی انتظامیہ کی غیر قانونی کان کنی سے گاؤں کے تمام مکانوں میں دراڑیں پڑ گئیں۔

سو سے زائد مکانات پر مشتمل گاؤں میں ہونے والی کان کنی نے پہاڑوں میں بھی دراڑیں ڈال دی ہیں، جبکہ پہاڑ بھی سرک رہا ہے جو کسی بڑے سانحے کا سبب بن سکتا ہے۔

ٹرمپ کا کوئلے کی کانیں کھودنے کا منصوبہ *

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ متعدد بار ضلعی انتظامیہ اور محکمہ معدنیات کے اعلیٰ حکام کو معاملے سے آگاہ کیا گیا لیکن محکمہ معدنیات اور ضلعی انتظامیہ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ آبادی کا کہنا ہے کہ اس طرح کی درجنوں کانیں آبادی کے درمیان سے نکالی گئی ہیں جس کے باعث پہاڑ بھی سرکنے لگے ہیں۔

واضح رہے کہ کان کنی ماحول اور انسانی صحت کے لیے ایک مضر عمل ہے۔ مختلف کانوں سے نکالی جانے والی دھاتیں اپنی اصل حالت میں موجود ہوتی ہیں جو اپنے تمام تر نقصانات کے ساتھ نہ صرف کان کنوں بلکہ قریبی آبادی اور ماحول پر بھی اثر انداز ہوتی ہیں۔

کانوں میں کھدائی کرنے والے مزدوروں اور قریبی آبادیوں میں رہنے والے افراد میں سانس کی بیماریاں عام ہوتی ہیں جو وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی جاتی ہیں اور بالآخر ان کی موت پر منتج ہوتی ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں