The news is by your side.

Advertisement

بیٹیوں نے میری ہمت کو ٹوٹنے نہیں دیا، تیزاب گردی کی شکار خاتون

کراچی : ہمارے معاشرے میں حوا کی بیٹی پر ظلم و ستم کا سلسلہ جاری ہے، خواتین پر تشدد اور تیزاب گردی کے واقعات کم ہونے کی بجائے مسلسل بڑھتے جارہے ہیں۔

خاندانی مسائل اور پنچایتی نظام کے ساتھ ساتھ سرکاری ونجی اداروں میں خواتین کے ساتھ روا رکھا جانے والا سلوک بھی متاثرہ خواتین کو انصاف کی فراہمی میں بڑی رکاوٹ بن چکا ہے۔

خواتین کے لیے اس پُرخطر دور میں بھی کچھ خواتین ایسی ہیں جنہوں نے ہر ظلم کا مقابلہ کیا اور ظالم سماج کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ہر مشکل کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔

ایک ایسی ہی باہمت اور باحوصلہ خاتون لیاری کی رہائشی کلثوم محمد بھی ہیں، جن پر ہونے والے پے در پے وار بھی ان کے خوابوں کے راستے نہ روک پائے۔

اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ شادی ہوئی تو بہت کم عمر تھی لیکن شوہر کافی بڑی عمر کے تھے، کچھ دنوں بعد ہی پتہ چلا کہ وہ جواری اور شرابی بھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ شوہر نے مجھے بات بات پر مارنا پیٹنا شروع کردیا، میرے گھر والے کہتے تھے برداشت کرو تم کو اب اسی کے ساتھ رہنا ہے۔

کلثوم نے بتایا کہ میرے چھ بچے ہیں، شوہر کچھ کماتا نہیں تھا، میرے شوہر نے سال 2008 کے ماہ ستمبر میں چاند رات کو میرے چہرے پر تیزاب پھینک کر مجھے مارنے کوشش کی لیکن میری جان بچ گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ مجھے گھر سے بھی نکال دیا، میں در در کی ٹھوکریں کھاتی رہی، لیکن بعد میں میری بیٹی میرے پاس آگئی جس کو میں کامیاب فٹبالر بنانا چاہتی ہوں۔

اب کلثوم اپنی آنکھیں اور چہرہ کھوچکی ہے لیکن اس کی بیٹیاں اس کے جینے کی تحریک کا ذریعہ رہی ہیں جس کے بدلے میں وہ بیٹیوں کے خوابوں کا واحد سہارا ہے۔

کلثوم کی سب سے چھوٹی بیٹی 15 سالہ مہرجان ہے جو فٹبال کی کھلاڑی ہے، مہرجان پاکستان کی نمائندگی کرنے کا خواب دیکھتی ہے اس کا کہنا ہے کہ اگر اسے قومی ٹیم میں شامل کیا جائے تو اپنی بہترین صلاحیتوں کا مظاہرہ کرے گی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں