The news is by your side.

Advertisement

ہم تمام لوگ جانتے تھے کہ مرض لاعلاج تھا!

ہم تمام لوگ یہ جانتے تھے کہ مرض لاعلاج تھا۔

پھر جب میں نے یہ سنا کہ نرگس دت کو سلون کیٹیرنگ میموریل لے جایا جا رہا ہے (وہی اسپتال جہاں میں اپنے والد کو لے گیا تھا) تو مجھے ایک مخلص اور ضعیفُ العمر امریکی خاتون کی وہ بات یاد آ گئی جو اس نے مجھے اس وقت کہی تھی۔

میں اسپتال کے ویٹنگ روم میں کھڑا تھا جب اس خاتون نے اپنی آنسو بھری آنکھوں سے مجھے دیکھتے ہوئے کہا تھا!

"میرے بیٹے!! ایسا نہیں کہ کوئی اسپتال اچھی جگہ ہو، لیکن بالخصوص یہ اسپتال بہت منحوس جگہ ہے۔ اس لیے کہ اگر ایک بار تم یہاں آ گئے تو۔۔۔۔ ” اور پھر وہ ہچکیاں لینے لگی۔

اور حقیقتاً یہ اسپتال بہت منحوس جگہ ثابت ہوئی جیسا کہ اس شریفُ النفس امریکی خاتون نے کہا تھا۔ اس موذی مرض کے بارے میں سبھی جانتے تھے جس سے مسز دَت نبرد آزما تھیں، پھر بھی ہم عیادت میں مصروف رہے، دعائیں کیں اور یہ امید باندھے رکھی کہ شاید کوئی معجزہ ہو جائے۔

اس کے علاوہ مسٹر دَت نے اپنی بیوی کی تیمار داری جس عقیدت اور لگن سے کی اسے دیکھتے ہوئے ہماری یہ خواہش تھی کہ معجزہ اگر ساوتری اور سیتا دن کے ساتھ ہو سکتا ہے تو اس مرتبہ کیوں نہیں ہو سکتا۔ ہماری آرزو تھی کہ وہ بدترین حالات سے کام یاب و کامران لوٹیں مگر یہ نہ ہو سکا۔

یہ بات نہ ہو سکی اور یہ ہمارے لیے بہت بڑا صدمہ تھا۔ صدمہ صرف ان کی موت کا نہیں کیونکہ انہیں کم از کم اذیتوں اور تکالیف سے نجات مل گئی لیکن صدمہ اس بات کا ہے کہ وہ اب ہم میں نہیں رہیں۔ اس سفید پوش خاتون نے اپنی زندگی میں بہت کام یابیاں حاصل کیں۔ اور صرف فلموں ہی میں نہیں، فلموں میں تو خیر وہ چند بہترین ہندوستانی اداکاراؤں میں سے ایک تھیں لیکن اس کے علاوہ وہ اپنی سرزمین کی بہترین ہندوستانی خاتون تھیں۔ انہوں نے جو بھی کام کیا خلوص، ہمدردی، محبت اور عقیدت کے ساتھ کیا۔

سلون کیٹیرنگ میموریل اسپتال کے ڈاکٹر میرے والد سے کہا کرتے تھے: "جناب، آپ کو کینسر ہے۔”

اور میرے والد ہنس دیا کرتے تھے۔ امریکی ڈاکٹروں کو اس بات پر بھی تعجب تھا کہ ایک بیٹا جو خود کئی بچوں کا باپ ہے، اپنے والد کو اسپتال لے آیا اور اس کے ساتھ رہا۔ آج کی امریکی تہذیب کے لیے یہ ایک عجیب و غریب بات تھی۔ جہاں اگر ان کے والدین بیمار پڑتے ہیں تو وہ زیادہ سے زیادہ نیک خواہشات کا کارڈ بھجوا دیتے ہیں، یا پھر گلدستے روانہ کر دیتے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ اس وقت بھی ان کے جذبات وہی ہوں گے جب انہوں نے مسٹر دت اور ان کے بچوں کو مسز دت کی تیمارداری کرتے ہوئے دیکھا ہوگا۔

1920ء میں جب پرتھوی راج نے فلمی دنیا سے اپنا رشتہ جوڑا تو وہ ایک پڑھے لکھے، مہذب اور اعلیٰ خاندان کے چشم و چراغ تھے اور انہوں نے فلمی دنیا کے گھٹیا اور بد کردار امیج کو اونچا کرنے کی کوشش کی تھی۔ سنیل دت نے اپنے خاندان کے تعلق سے جس پُرخلوص عقیدت کا مظاہرہ کیا، اس سے انہوں نے اس امیج کو اور زیادہ باوقار اور بلند بنایا۔ مجھے ان پر فخر ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ انہوں نے اپنا تن من دھن سب نچھاور کر دیا۔ وہ نرگس دت کے برابر قوت اور بہادری کے ایک ستون کی طرح کھڑے رہے۔

ہم میں سے وہ جو مسز دت کو جانتے تھے یا ان کی مصروفیات کو جانتے تھے۔ جیسے معذور بچوں کی فلاح و بہبود میں انہیں دل چسپی تھی، آج یہ عہد کریں اور مجھے امید ہے کہ وہ کریں گے کہ ان کو قائم رکھنے کے لیے ہم ان کے ادھورے خوابوں اور کاموں کو پایۂ تکمیل تک پہنچائیں گے۔

نرگس میں جو عورت موجود تھی وہ ایک بے مثال عورت تھی۔ وہ مسلمان اور ہندو والدین کی اولاد تھیں۔ ان کی پرورش موسیقی اور رقص کے ماحول میں ہوئی تھی۔ ان کی ذات میں تمام تہذیبوں کی عمدہ باتیں موجود تھیں۔

پھر جب وہ جوان ہوئیں تو ایک مہذب، تعلیم یافتہ زندہ دل شخصیت کی طرح دنیا کے سامنے آئیں اور اپنے اطراف کے ماحول میں ایک ہلچل پیدا کر دی۔ اپنے اطراف کی ہر چیز سے وہ رابطہ قائم کرنا چاہتی تھیں، اپنے آپ میں اور اپنے اطراف کے ماحول میں مطابقت پیدا کرنا چاہتی تھیں، اسی لیے انہوں نے فلموں میں جو کردار ادا کیے ہیں وہ صرف فلمی کردار نہیں تھے بلکہ ایسے کردار تھے جو انہوں نے جیے تھے، اپنے پر بھگتے تھے۔

معمولی معمولی باتیں بھی ان کے لیے بہت معنی رکھتی تھیں۔ تقریبات کے دوران یا عوامی جلسوں میں وہ دور سے تماشا نہیں دیکھا کرتی تھیں۔ چاہے امیر ہو یا غریب، اونچی ذات کا ہو یا نچلی ذات کا وہ سب کے ساتھ بیٹھتیں، کھانا کھاتیں، جونیئر اداکاراؤں کے بال سنوارنے لگ جاتیں یا ان کے لباس درست کرنا شروع کر دیتیں۔ انہیں اپنے سپر اسٹار ہونے کا گھمنڈ کبھی بھی نہیں رہا۔ یہ تمام حرکتیں وہ دکھاوے کے لیے نہیں کرتی تھیں کیونکہ اس زمانے میں ایسے صحافی نہیں ہوا کرتے تھے جو سیٹس پر آ کر تصویریں کھینچتے ہیں، ان کے برتاؤ میں سادگی تھی، ان کے سفید لباس میں سادگی تھی۔ ان میں بناوٹ ، دکھاوا یا نام نہاد اسٹار پن نہیں تھا وہ ایک انتہائی سادہ اور حقیقت پسند خاتون تھیں۔

خلوص و محبت اور بے پناہ صلاحیتیں انہیں اپنے والدین کی طرف سے ملی تھیں۔ کئی لوگ انہیں جانتے تھے، میں بھی ان میں سے ایک ہوں۔ ان خوش قسمت لوگوں میں سے ایک جنہیں ان کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا تھا۔

(نرگس کو میرا آخری سلام از راج کپور، رسالہ فن اور شخصیت (نرگس دَت نمبر) 1984ء)

Comments

یہ بھی پڑھیں