The news is by your side.

Advertisement

نواز شریف کی طلبی کا اشتہار اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر چسپاں

اسلام آباد : العزیزیہ اور ایون فیلڈ ریفرنسز میں سابق وزیراعظم نواز شریف کی طلبی کا اشتہار اسلام آباد ہائیکورٹ کے باہر چسپاں کر دیا گیا ، نواز شریف 30 روز میں عدالت پیش ہوں ورنہ انہیں اشتہاری قرار دے دیا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق عدالتی حکم پر جنگ اور ڈان اخبارات میں جاری کردہ نواز شریف کی طلبی اشتہارات کی کاپیاں ہائیکورٹ کے باہر چسپاں کر دی گئی ہیں، اشتہارات کی پلاسٹک کوٹنگ کر کے ہائی کورٹ کے گیٹ پر چسپاں کیا گیا ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے رجسٹرار نے نواز شریف کی طلبی کا نوٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کی حدود میں چسپاں کرنے کی ہدایت کی تھی اور کہا تھا کہ نواز شریف کی بزریعہ اشتہار طلبی کے لئے عدالتی حکم پر عمل درآمد کر دیا گیا ہے۔

اشتہار میں کہا گیا تھا کہ از شریف 30 روز میں عدالت پیش ہوں ورنہ انہیں اشتہاری قرار دے دیا جائے گا ، نواز شریف کی طلبی کا اشتہار احاطہ عدالت اور نواز شریف کی رہائش گاہ پر بھی چسپاں کیا جائے جبکہ نیب پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی بذریعہ اشتہار طلبی کے لاؤڈ سپیکر سے ڈھول بجا کر اعلانات بھی کیے جائیں گے۔

اشتہار کے متن میں کہا گیا ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف 6 جولائی 2018 کو 10 سال قید اور 8 ملین پاؤنڈز جرمانے کی سزا سنائی اور انتخابات میں حصہ لینے کے لیے نااہل قرار دیا گیا، 19 ستمبر 2018 کو سزا معطل ہونے پر وہ جیل سے ضمانت پر رہا ہوئے، اپیل زیر سماعت ہے اور نواز شریف عدالت پیش ہونے کے پابند تھے۔

متن میں کہا گیا تھا کہ ان کی حاضری یقینی بنانے کے لیے وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے جس کی تعمیل نہ ہو سکی، نواز شریف 24 نومبر کو عدالت میں پیش ہوں، جبکہ العزیزیہ سٹیل ملز ریفرنس میں نواز شریف کو 7 سال قید اور 1.5 ارب روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی، ان کی اس ریفرنس میں 8 ہفتوں کی ضمانت منظور کی گئی۔

خیال رہے اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاق کی جانب سے نواز شریف کی طلبی کا اشتہار لندن کے 2 اخبارات میں شائع ہونے کی درخواست مسترد کردی تھی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں