پیر, مئی 20, 2024
اشتہار

افغان وزیر خارجہ کا پاکستان اور ٹی ٹی پی کو باہمی مذاکرات کا مشورہ

اشتہار

حیرت انگیز

افغانستان کے عبوری وزیر خارجہ امیر خان متقی نے کہا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان اور پاکستان حکومت مذاکرات کے لیے مل بیٹھیں۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق افغانستان کے عبوری وزیر خارجہ امیر خان متقی جو ان دنوں پاکستان کے دورے پر ہیں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے تحریک طالبان پاکستان کے حوالے سے اپنی ذمے داری ادا کی اور دونوں فریقین کو مذاکرات کی میز پر بٹھایا تاکہ مسئلے کا حل نکل سکے۔ ایک بار پھر کہتے ہیں کہ ٹی ٹی پی اور پاکستانی حکومت مذاکرات کے لیے مل بیٹھیں۔

امیر خان متقی کا کہنا تھا کہ ہم پاکستان میں ہر صورت امن چاہتے ہیں لیکن ٹی ٹی پی کوئی دو سال پہلے بننے والی تنظیم نہیں ہے۔ ہم نے ٹی ٹی پی کے حوالے سے موجودہ اور گزشتہ حکومتوں سے گفت وشنید کی ہے۔ موجودہ دورے میں بھی پاکستانی حکام سے اس معاملے پر بات چیت ہوئی۔

- Advertisement -

انہوں نے کہا ہے کہ چیلنجز اور عالمی پابندیوں کے باوجود افغانستان کی معیشت میں بہتری آئی۔ پاکستان اور افغانستان سینٹرل ایشیا تک مل کر کام کر رہے ہیں۔ معاشی خوشحالی اور اصلاحات کیلیے پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہیں اور ہم دنیا کے ممالک سے باہمی تجارت بڑھانا چاہتے ہیں۔

افغان عبوری وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ہماری حکومت کو 20 ماہ ہو چکے ہیں، اس دوران چیلنجز پر قابو پانے کی کوشش کی۔ مختلف ممالک کے ساتھ معاشی تعلقات میں پابندیاں بڑا چیلنج ہیں، پابندیوں کی وجہ سے بینکوں کو خام مال درآمد کرنے میں مشکلات ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بیروزگاری اور مہنگائی پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں مہنگائی کم اور افغان کرنسی کی قدر مستحکم ہوئی ہے۔ افغان حکومت نے بیرونی مدد کے بغیر 2 ارب 60 کروڑ ڈالر کا بجٹ پیش کیا ہے۔

امیر متقی کا یہ بھی کہنا تھا کہ پہلے کے مقابلے میں افغانستان کے حالات میں بہتری کے خواہاں ہیں اور پوری دنیا اب افغانستان کو تسلیم کر رہی ہے۔ ایک ڈالر 130 افغانی روپے پر آگیا ہے۔ ہم دور دراز پہاڑوں پر رہنے والوں تک روزگار پہنچانا چاہتے ہیں۔

افغان وزیر خارجہ نے بتایا کہ معیشت کا دباؤ پوری دنیا کی طرح ہم پر بھی ہے۔ ہم نے 1.9 بلین کی تجارت کو بڑھایا ہے اور تجارت بڑھنے کی ایک وجہ کرپشن سے پاک معاشرہ ہے۔ ہم نے اپنی 6.8 بلین ڈالر تک درآمدات اور برآمدات کو بڑھایا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان کے پاس قدرتی وسائل ہیں، ہماری توجہ اپنے ملک کی تجارت کو بڑھانا اور خطے کے ساتھ راہداری کو مزید بہتر بنانا ہے۔

Comments

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں