The news is by your side.

Advertisement

طالبان کی دھمکیوں کے باوجود افغانستان میں صدارتی انتخابات جاری

کابل : خانہ جنگی کا شکار افغانستان میں طالبان کی دھمکیوں کے باوجود صدارتی انتخابات کےلیے پولنگ کا آغاز ہوگیا ہے، پولنگ کے دوران ملک بھر میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق برسوں سے خانہ جنگی اور عالمی طاقتوں کے لیے میدان جنگ بننے والے ملک افغانستان میں آج صدارتی انتخابات کےلیے پولنگ کا عمل جاری ہے،پولنگ کے دوران افغان طالبان کے شدید حملوں کا خطرہ بھی لاحق ہے۔

افغان نے حکام نے الیکشن کےد وران ملک بھر کے پولنگ اسٹیشنز کی سیکیورٹی کےلیے افغان فورسز کے ہزاروں اہلکاروں کو پولنگ اسٹیشنز کے باہر و اطراف میں تعینات کیا گیا ہے تاکہ طالبان کے مسلح دہشت گردوں سے نمٹا جاسکے۔

افغان خبررساں ادارے نے رپورٹ کیا کہ آزاد الیکشن کمیشن کے مطابق تقریباً 96 لاکھ لوگ الیکشن میں ووٹ ڈالنے کے لیے رجسٹرڈ ہیں۔

اسی طرح کمیشن کی جانب سے مجموعی طور پر 5 ہزار 373 پولنگ سینٹرز کا بتایا گیا ہے تاہم رپورٹ میں یہ دعویٰ سامنے آیا کہ 445 پولنگ سینٹر انتخابت کےروز بند ہیں۔

خیال رہے افغانستان کے صدارتی انتخابات میں اٹھارہ امیدوارمیدان میں ہیں تاہم موجودہ صدراشرف غنی اورافغان چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ کے درمیان سخت مقابلے کی توقع ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ دونوں امید وار سنہ 2014 سے ایک ٹوٹے پھوٹے شراکتی اقتدار کے انتظامات کے ذریعے حکمرانی کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ جو بھی افغانستان کا اگلا صدر منتخب ہوگا وہ اسے ملک کی سربراہی کرے گا جو گزشتہ چار دہائیوں سےحالت جنگ میں اور مسلسل جاری تنازعے کے باعث پرہر سال افغانستان میں ہزاروں افراد لقمہ اجل بنتے ہیں۔

ایک روز قبل ترجمان افغان طالبان نے کہا تھا کہ ہمارے مسلح جنگجوؤں نے شمالی سمن گن صوبے کے ضلع درہ سوف پایان پر بھی قبضہ کرلیا، جو ان کی بڑھتی ہوئی طاقت کی نشانی ہے۔

‏حزب اسلامی کے سربراہ گلبدین حکمت یاربھی صدارتی الیکشن لڑرہے ہیں۔

‏یہ بھی یاد رہے افغانستان میں صدارتی مہم کے دوران پرتشدد واقعات میں متعددافراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں