The news is by your side.

Advertisement

افغان عالم دین کا اغوا کے بعد قتل، ذبیح اللہ مجاہد کا اہم بیان سامنے آگیا

کابل: افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے عالم دین مولوی عبید اللہ کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس قتل کا ہم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

افغان میڈیا رپورٹ کے مطابق افغان دارالحکومت کابل میں عالم دین مولوی عبید اللہ کلیم کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے طالبان کے ترجمان نے کہا کہ کابل میں عالم دین مولوی عبیداللہ کےقتل کا ہم سےکوئی تعلق نہیں ہے۔

ذبیح اللہ مجاہد نے بتایا کہ مولوی عبیداللہ اور ان کےطالب علم کو چند روز قبل اغواکیاگیا تھا، دونوں کی آج لاشیں برآمد ہوئیں ہیں۔

افغان طالبان کے ترجمان نے کہا کہ ’ امارت اسلامیہ کی انٹیلی جنس مجرموں کی تلاش میں ہے، شرپسند حلقے تفرقہ بازی کی خاطر ایسے کام کرتے ہیں، عوام پُرامن رہے، ہم مجرمان کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے‘۔

مزید پڑھیں: افغان طالبان کا بڑا اعلان

قبل ازیں فغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اعلان کیا کہ دارالحکومت کابل سمیت کسی بھی  شہر میں ہوائی فائرنگ کرنے والے افراد کو شہر بدر کیا جائے گا۔

امارت اسلامیہ کے عسکری امور کمیشن نے ہوائی فائرنگ کے حوالے سے اعلامیہ جاری کیا، جس میں کابل اور دیگر شہروں میں ہوائی فائرنگ سے متعلق ہدایت شامل کی گئیں ہیں۔ ذبیح اللہ مجاہد نے اعلامیہ میں کہا ہے کہ کابل اور دیگر شہروں میں تقریبات پر ہوائی فائرنگ کی جاتی ہے، ہوائی فائرنگ سے بہت سے شہری شہید ، زخمی اور خوفزدہ ہوتے ہیں، لہذا اس سلسلے کو فوری ترک کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: کابل میں‌ شدید فائرنگ، طالبان رہنما کا شہریوں‌ کے لیے اہم بیان

انہوں نے ہدایت کی کہ ہوائی فائرنگ کرنے والوں کو گرفتار کیا جائے اور ایسے لوگوں کا اسلحہ قبضے میں لے کر  انہیں شہر بدر کردیا جائے۔ دوسری جانب افغان طالبان کے کمانڈر ابدالی کندزئی کا کہنا ہے کہ امارت اسلامی افغانستان نے پنجشیر فتح کرلیا ہے، افغان عوام کو جلد بڑی خوشخبری سنائی جائے گی۔

اپنے ایک بیان میں ابدالی کندزئی نے کہا کہ امارت اسلامیہ افغانستان کے ترجمان جلد پریس کانفرنس کریں گے جس میں عوام کو خوش خبری سنائی جائے گی، پنجشیر ہمارے ہاتھ میں ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں