The news is by your side.

Advertisement

افغانستان میں دھماکے : پولیس سربراہ سمیت تین افسران ہلاک

کابل : افغانستان کے مشرقی صوبہ خوست میں ہونے والے بم دھماکے میں صوبائی پولیس کے سربراہ سمیت تین پولیس افسر جاں بحق ہو گئے، پولیس کی گاڑی بارودی سرنگ سے ٹکراگئی تھی۔

تفصیلات کے مطابق افغانستان کے مشرقی صوبہ خوست میں پولیس افسران کی گاڑی دھماکے سے اڑا دی گئی جس کے نتیجے میں تین پولیس افسر ہلاک ہوچکے ہیں، واقعے کی تصدیق خوست کے صوبائی گورنر محمد حلیم فدائی نے بھی کردی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ گورنر محمد حلیم فدائی کے مطابق خوست صوبے کے پولیس سربراہ بریگیڈیر جنرل سید احمد ان کے اسسٹنٹ آفیسر اور ایک پولیس افسر نادر شاہ ضلع کوٹ میں رات تقریبا 11 بجے آئی ای ڈی دھماکے میں شہید ہوگئے۔

انہوں نے بتایا کہ اس واقعہ کے وقت پولیس کی گاڑی جین خیل علاقے میں ایک طالبان جنگجو کا تعاقب کرکے دھول سے اٹے راستے سے گزر رہی تھی، اسی دوران وہ ایک آئی ای ڈی (بارودی سرنگ) کی زد میں آ گئی۔

دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ خوست کے مقامی طالبان قیادت نے پولیس چیف پر حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ ساتھی جنگجوؤں کی ہلاکت کا بدلہ لیا گیا ہے، اگر ہم پر کارروائیاں بند نہ ہوئیں تو ایسے حملے جاری رہیں گے۔

ادھر امریکا کے خصوصی مندوب برائے افغانستان زلمے خليل زاد نے گزشتہ روز ہی طالبان قیادت سے بات چیت کی ہے جس میں
افغان فوج کے خلاف عسکری کارروائیاں بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

افغانستان میں امن معاہدے کے باوجود حملوں کا سلسلہ  جاری، 98 افغان فوجی ہلاک

واضح رہے کہ امریکا اور افغان طالبان کے درمیان ہونے والے تاریخی امن معاہدے کے باوجود افغانستان میں دہشت گردانہ حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔

غیر ملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کے دوران ملک بھر میں 98 افغان سیکیورٹی فورسز ہلاک ہوئے۔ کئی شدت پسندوں سے مقابلے میں مارے گئے جبکہ متعدد بم حملوں میں لقمہ اجل بن گئے۔

افغان وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی چیک پوسٹوں پر پولیس اہلکاروں اور فوج پر حملوں کے نتیجے میں طالبان کو بھی شدید جانی اور مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

 

Comments

یہ بھی پڑھیں