The news is by your side.

Advertisement

افغان اسکواڈ کا لندن سے واپس نہ آنے کا فیصلہ

ورلڈکپ انڈر 19 اسکواڈ میں شامل 4 افغان ممبرز نے وطن واپس نہ آنے کا فیصلہ کرتے ہوئے لندن میں ہی اپنے قیام کو بڑھا لیا ہے۔

کرکٹ ویب سائٹ کے مطابق کریبیئن میں ورلڈکپ کے اختتام پر افغان اسکواڈ نے وطن واپسی کے لیے اڑان بھری تو ٹرانزٹ ویزے پر ہیتھرو ایئرپورٹ پر آنے کے بعد ان میں سے کچھ ارکان وطن نہیں لوٹے۔

افغان اسکواڈ نے ہفتے کے روز کریبیئن سے برطانیہ کے لیے پرواز کی اور اتوار کی صبح ان کا طیارہ ہیتھرو ایئرپورٹ پہنچا جہاں سے اسکواڈ نے براستہ دبئی کابل روانہ ہونا تھا۔

لیکن چار ممبر ایسے ہیں جنہوں نے واپسی کے لیے اڑان نہیں بھری اور تاحال لندن میں موجود ہیں جن کے ٹرانزٹ ویزے کی میعاد منگل کو ختم ہو جائے گی۔ برطانوی قانون کے مطابق کوئی بھی مسافر ٹرانزٹ ویزے پر 48 گھنٹے تک ہی ملک میں قیام کر سکتا ہے۔

ویب سائٹ کا کہنا ہے کہ واپس نہ آنے والوں میں کوچنگ اسٹافگ کے ساتھ کھلاڑی بھی شامل ہے جو ممکنہ طور پر سیاسی پناہ کے لیے درخواست دے سکتے ہیں کیونکہ ان کے پاس ویزے کی میعاد ختم ہونے کی صورت میں قیام کا کوئی قانونی جواز باقی نہیں رہے گا۔

Four Members Of Afghanistan U19 World Cup Squad Head To UK, Urged To Travel Back Home

افغان کرکٹ بورڈ نے اس صورتحال پر کوئی تبصرہ نہیں کیا اور نہ ہی ان خبروں کی تصدیق یا تردید کی ہے۔
افغانستان کے سابق کھلاڑی رئیس احمد زئی جو ورلڈ کپ کے دوران ہیڈ کوچ تھےان کا کہنا ہے کہ انہیں امید ہے کہ چاروں ارکان اپنے فیصلے پر "نظرثانی” کریں گے اور اپنے وطن واپس لوٹ جائیں گے۔

احمد زئی نے کہا کہ انہوں نے ان چاروں کو پیغامات بھیجے جو انہیں موصول ہوئے ہیں لیکن کوئی ردعمل نہیں دیا۔ ان سے کہا کہ افغانستان کو ان کی ضرورت ہے کھیل اور کرکٹ نے افغانستان کے لیے بہت کچھ کیا ہے ورلڈ کپ کے دوران ہمیں جو سپورٹ ملی وہ حیرت انگیز اور ناقابل یقین تھی بعض اوقات جب آپ اپنے ملک کے لیے کچھ کرتے ہیں تو یہ آپ کے لیے بہت معنی رکھتا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں