The news is by your side.

Advertisement

سندھ حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان بلدیاتی ترامیم کے معاہدے پر دیگر جماعتیں تشویش میں مبتلا

کراچی: سندھ حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان بلدیاتی ترامیم کے معاہدے پر دیگر جماعتیں تشویش میں مبتلا ہو گئی ہیں۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق سندھ حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان بلدیاتی ترامیم کے حوالے سے معاہدہ ہوا ہے، اپوزیشن جماعتوں ایم کیو ایم اور گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس نے اس معاہدے پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔

ایم کیو ایم نے اس سلسلے میں آج جمعے کو شام 5 بجے ہنگامی پریس کانفرنس طلب کر لی، جس میں معاہدے کے اصل حقائق اور بیک ڈور معاہدے کے حوالے سے انکشافات کیے جائیں گے۔

سردار عبدالرحیم نے کہا کہ متنازع بلدیاتی قانون کی درستگی سندھ اسمبلی کے ذریعے ہی ہو سکتی ہے، متنازع بلدیاتی بل سندھ اسمبلی میں پیش ہوگا تو تمام سمجھوتوں کی قلعی بھی کھل جائے گی۔

ڈپٹی کنوینر ایم کیو ایم، سابق میئر وسیم اختر نے معاہدے کو ‘بالکل غلط معاہدہ’ قرار دیتے ہوئے کہا معاہدے کے تحت ایل ڈی اے، ایم ڈی اے، کے ڈی اے، ماسٹر پلان اور بلڈنگ کنٹرول میں میئر کا ایڈمنسٹریشن میں صرف ایک کردار ہوگا، یہ بالکل بھی قابل قبول نہیں ہونا چاہیے۔

وسیم اختر نے کہا ان سارے محکموں کی سرپرستی میئر کے پاس ہونی چاہیے، نہ کہ میئر کا ایڈمنسٹریشن میں کردار ہونا چاہیے، میئر جب ان محکموں کی سربراہی کرے گا تب ہی مسائل حل ہوں گے، ورنہ تو کنٹرول سندھ حکومت اور وزیر بلدیات کے پاس ہی رہے گا، میئر ان اختیارات کے ساتھ کچھ نہیں کر سکے گا۔

ایم کیو ایم اور جی ڈی اے اس معاہدے کو سیاسی معاہدے کی بجائے سندھ حکومت کی جانب سے جماعت اسلامی کے ساتھ دھوکا دہی سمجھ رہے ہیں، سردار عبدالرحیم نے اس حوالے سے کہا کہ عوام جاننا چاہتے ہیں کہ کالا قانون سفید کیسے ہو گیا؟

جی ڈی اے رہنما کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی اور پیپلز پارٹی کے درمیان طے پانے والے معاہدے کی شقیں عوام کے سامنے لائی جائیں، دونوں جماعتوں کے مابین طے پانے والی شقوں پر عوام کو اعتماد میں لیا جانا ضروری ہے۔

سردار عبدالرحیم نے کہا کہ بلدیاتی قانون متنازع ہے، اس میں بنیادی چیزوں کے حل ہونے کی ضرورت ہے، مقامی حکومتوں کا با اختیار ہونا ضروری ہے، اس پر سے سندھ حکومت کا غیر آئینی تسلط ختم ہونا چاہیے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں