spot_img

تازہ ترین

کراچی میں موسلا دھار بارش کا کوئی امکان نہیں، چیف میٹرولوجسٹ

چیف میٹرولوجسٹ سردار سرفراز نے کہا ہے کہ کراچی...

ایاز صادق قومی اسمبلی کے اسپیکر منتخب

مسلم لیگ ن کے سردار ایاز صدیق قومی اسمبلی...

کمالیہ: بارش میں گھر کی چھت گر گئی، ماں باپ اور بیٹا جاں بحق

کمالیہ کے علاقے فاضل دیوان میں مسلسل اور تیز...

حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا

نگراں حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے...

تین بھنگی!

یہ خواجہ احمد عباس جیسے بڑے قلم کار کا مشہور افسانہ ہے۔

خواجہ صاحب فکشن نگار، صحافی اور فلمی ہدایت کار و مکالمہ نویس تھے جنھیں‌ بھارتی حکومت اور فلمی و ادبی تنظیموں‌ نے اعزازات سے نوازا۔ یہ دل چسپ کہانی ہندوستان کے اُس سرکاری اعلان کے گرد گھومتی ہے جس میں چھوت اور ذات پات کو ختم کرنے کے لیے حکومت کی جانب سے اونچی ذات کے لوگوں کو زیادہ معاوضہ پر بلدیہ میں‌ صفائی کا کام کرنے کی نوکری کا اشتہار دیا گیا ہے۔ اس کے لیے دفتر میں‌ دو ہندو اور ایک مسلمان چلے آتے ہیں۔ کہانی پڑھیے۔

مدھیہ پردیش کی سرکار نے اعلان کیا ہے کہ جو بھی اونچی ذات والا کسی میونسپلٹی میں بھنگی کا کام کرنا منظور کرے گا اسے تنخواہ کے علاوہ نوے روپے ماہوار اسپیشل الاؤنس بھی دیا جائے گا۔ یہ فیصلہ چھوت چھات دور کرنے کی غرض سے کیا گیا ہے۔ (بھوپال کی خبر)

ابھی سورج نہیں نکلا تھا کہ میونسپلٹی کے وارڈ نمبر تیرہ کے تینوں نئے بھنگی اپنی اپنی جھاڑوئیں، ٹوکریاں لیے ڈیوٹی پر آ گئے۔

سینیٹری انسپکٹر نے اپنے رجسٹر پر نظر ڈالتے ہوئے بھنگیوں کے جمعدار سے پوچھا، ’’کیوں تمہارے تینوں بھنگی حاضر ہیں؟‘‘

’’جی ہاں حاضر ہیں۔‘‘ بھنگیوں کے جمعدار نے جواب دیا اور ثبوت کے لیے اسی وقت حاضر لے ڈالی۔

’’پنڈت کرپا رام حاضر؟‘‘

’’حاضر۔‘‘

’’بابو کالی چرن حاضر؟‘‘

’’حاضر۔‘‘

’’شیخ رحیم الدین حاضر؟‘‘

’’حاضر۔‘‘

سینیٹری انسپکٹر سائیکل پر بیٹھ کر دوسرے علاقوں کا معائنہ کرنے چلا گیا اور جاتے جاتے جمعدار سے کہہ گیا، ’’ان رنگروٹوں کو کام سکھانا تمہارے ذمے ہے۔‘‘ جمعدار کے باپ دادا سات پیڑھیوں سے اسی قصبے میں بھنگی کا کام کرتے آئے تھے اور وہ خود میونسپلٹی میں بیس برس نوکری کرنے کے بعد جمعدار کے عہدے تک پہنچا تھا۔

سیکڑوں بھنگیوں نے اس کی ماتحتی میں کام کیا تھا۔ لیکن کئی برس سے نہ جانے اس کی جات برادری والوں کو کیا ہوگیا تھا کہ وہ اپنے باپ دادا کے پیشے سے کترانے لگے تھے۔ نوجوان تو اسکول میں چار جماعتیں پڑھ کر جھاڑو ہاتھ میں لینا پاپ سمجھتے تھے۔ کتنے ہی پاس کے شہر میں شکر کے کارخانے میں نوکر ہو گئے تھے۔ ایک نے ناجائز شراب بنانے کا دھندا چالو کر دیا تھا۔ چار لڑکے گھر سے بھاگ کر بمبئی چلے گئے تھے۔ ان میں سے تین تو پھر لاپتا ہوگئے۔ ایک کے بارے میں سنا گیا کہ وہ ایک فلم کمپنی میں اکسٹرا کا کام کرتا ہے اور تاج محل ہوٹل کے پاس والے فٹ پاتھ پر سوتا ہے۔

’’بےوقوف۔‘‘ جمعدار نے اس چھوکرے کے بارے میں سوچتے ہوئے فیصلہ کیا۔ ’’پڑھا لکھا بھنگی تو چار پانچ برس میں ہی جمعدار ہو جاتا ہے۔‘‘

پھر اس نے ان تینوں نئے رنگروٹوں پر نظر ڈالی جو اس کے سامنے کھڑے اس کے حکم کا انتظار کر رہے تھے۔

پنڈت کرپا رام جو دبلا پتلا تھا اور اس کا سر گنجا تھا اور اس کی آنکھوں پر لوہے کی کمانیوں کا چشمہ لگا ہوا تھا وہ میونسپلٹی کے ہی ایک اسکول میں ماسٹر ہوا کرتا تھا۔ جمعدار اسے اچھی طرح جانتا تھا۔ چار برس ہوئے وہ اپنے بیٹے کو اسکول میں داخل کرنے گیا تھا تو پنڈت کرپا رام نے اسے کلاس کے سب لڑکوں سے الگ بیٹھنے کو کہا تھا۔ اس نے کہا تھا، ’’جمعدار بھئی برا نہ ماننا۔ میں خود تو ذات پات، چھوت چھات کو نہیں مانتا مگر اسکول میں جو بچے پڑھتے ہیں ان کے ماں باپ کے جذبات کا خیال بھی رکھنا ہی پڑتا ہے۔‘‘

سو اب جمعدار نے پوچھا، ’’کیوں پنڈت۔ یہ آج تمہارے ہاتھ میں جھاڑ ٹوکری کیسے آ گئی؟‘‘

پنڈت کرپا رام نے اپنے چشمے سے جمعدار کو گھورتے ہوئے جواب دیا، ’’یہ سب کل یگ کی مایا ہے جمعدار۔ پچیس برس سے چھوکرے پڑھا رہا ہوں۔ پھر بھی تنخواہ ستر روپلی ملتی تھی۔ دو دو جوان چھوکریاں گھر میں بن بیاہی بیٹھی ہیں۔ مرتا کیا نہ کرتا۔‘‘

’’لو پنڈت جی برا نہ ماننا۔‘‘ جمعدار نے پنڈت کے الفاظ چبا کر دہراتے ہوئے کہا، ’’سامنے والی گلی کی نالیوں کو جھاڑو سے رگڑ کر صاف کر ڈالو۔ مگر جلدی سے پھر چوک والے بم پولیس کی صفائی بھی کرنی ہے۔‘‘

چوک والے بم پولیس کا نام سنتے ہی پنڈت کرپا رام کو بے اختیار ابکائی آ گئی۔ پاخانے کے ڈھیر میں کلبلاتے ہوئے کیڑے اس کی آنکھوں کے سامنے ناچنے لگے۔ اور خیال ہی سے اس کی ناک میں بدبو کے بھبکے آنے لگے۔ اس نے چپکے سے جھاڑو اٹھائی اور نالی صاف کرنے لگا۔ لیکن جھاڑو اتنی چھوٹی تھی کہ اسے جھک کر دہرا ہونا پڑا اور اس کی کمر کی بوڑھی اور گھٹیا کی ماری ہڈیاں چرچرانے لگیں۔

اور اب جمعدار شیخ رحیم الدین کی طرف مخاطب ہوا، ’’کیوں شیخ جی تم کیسے آ گئے اور اس دھندے میں؟‘‘

رحیم الدین سر جھکائے مسمی صورت بنائے کھڑا تھا۔ اس لیے کہ اس کے خاندان میں آج تک کسی نے نوکری نہیں کی تھی۔ ہمیشہ زمینداری پر گزر کیا تھا۔ اس کے دادا کی آدھی جائداد ایک گانے والی کی نذر ہوگئی تھی۔ اس کے باپ کسی مہنگی عیاشی کا بار نہیں اٹھا سکتے تھے۔ صرف حقہ پیتے تھے اور اپنی بیٹھک میں دوسرے ’’اشراف‘‘ دوستوں کے ساتھ بیٹھ کر چوسر کھیل لیتے تھے۔ اپنے بیٹے کو انھوں نے گھر میں تھوڑی سی عربی فارسی پڑھوائی تھی اور تین چار برس کے لیے ایک مقامی مسلم اسکول میں انگریزی پڑھنے بھی بھیجا تھا۔ مگر تین سال متواتر فیل ہونے کے بعد نام کٹوالیا تھا اور پھر زمینداری کاخاتمہ ہو گیا تھا اور یہ تاریخی جھٹکا وہ برداشت نہ کرپائے تھے۔ باپ کے انتقال کے بعد زمین کے بدلے جو ’’بونڈ‘‘ ملے تھے انھیں بیچ کر رحیم الدین نے تین مہینے اور کلکتے کے ایک سفر میں ہی خرچ کر ڈالا تھا۔ اب اس کے پاس ایک ٹوٹا پھوٹا گھر تھا۔ ایک دادا کے وقت کی زربفت کی شیروانی تھی اور ایک باپ مرحوم کی یاد گار حقہ تھا جس کے تانبے کے پیندے پر کھدا ہوا تھا۔ ’’شیخ کریم الدین رئیس اعظم کُرسی نشین ضلع دربار۔‘‘

’’جمعدار صاحب‘‘ اس نے خوشامدانہ لہجے میں کہا کہ شاید وہ اسے کوئی ہلکا سا کام دے دے۔ ’’یہ سب انقلابات ہیں زمانے کے۔ مگر آپ جانتے ہیں ہم مسلمانوں میں تو کوئی چھوت چھات نہیں۔ ہاتھ سے کام کرنا کوئی عیب نہیں۔‘‘

مگر جمعدار کو یاد آ گیا کہ جب اس شیخ رحیم الدین کا بیاہ ہوا تھا تو اس کے مرحوم باپ نے کس طرح مہمانوں کے آگے سے بٹورا ہوا جھوٹا کھانا بھنگیوں کو دیا تھا اور جب جمعدار کے بڑے بیٹے نے کہا تھا، ’’شیخ جی۔ پورے دو دن تمہارے گھر کی صفائی کی ہے۔ مزدوری میں پیسے دو جھوٹا کھانا کیوں دیتے ہو؟‘‘ تو بڈھے زمیندار نے اسے مار کے گھر سے نکال دیا تھا اور چلاّیا تھا، ’’دیکھتے ہو ان کمینے مردار خوروں کی اب یہ ہمت ہو گئی۔ چاہتے ہیں کہ اشراف انھیں برابر میں بٹھاکر پلاؤ قورمہ کھلائیں۔‘‘

اور سو اب جمعدار نے کہا، ’’شیخ جی۔ وہ کوڑے کا ڈھیر جو پڑا ہے اسے ٹوکریوں میں بھر بھر کے میونسپلٹی کی گاڑی میں بھر دو۔ پھر تمھیں بھی چوک کا بم پولیس صاف کرنے میں پنڈت جی کا ہاتھ بٹانا ہے۔‘‘

رحیم الدین نے کوڑے کو ٹوکریوں میں بھرنا شروع کیا تو دیکھا اس میں محلے بھر کا جھوٹا کھانا پڑا ہے۔ سڑی ہوئی ترکاری۔ باسی روٹیوں کے ٹکرے انڈوں کے چھلکے۔ گوشت کے چھیچھڑے۔ چچوڑی ہوئی ہڈیاں اور ساتھ ہی میں ایک مردہ چھچھوندر۔ گائے بیلوں کا گوبر۔ بکریوں کی مینگنیاں۔ گلی میں بچوں کا کیا ہوا پاخانہ اور جیسے جیسے کوڑے کا ڈھیر چھوٹا ہوتا جا رہا تھا اس کی بدبو کے بھپکے اور تیز ہوتے جا رہے تھے۔ یہاں تک کہ بھپکے کے ساتھ رحیم الدین کو اپنی کی ہوئی قے کو بھی زمین پر سے صاف کرنا پڑا۔

اب صرف ایک بھنگی رہ گیا تھا۔ کالی چرن۔ مگر اسے جمعدار نہیں پہچانتا تھا۔

’’بابو کالی چرن۔ کہاں سے آئے ہو؟ میں نے تمھیں پہلے کبھی نہیں دیکھا۔‘‘

’’جمعدار صاحب۔ میں اس قصبے کا نہیں ہوں۔ بکرم پور سے آیا ہوں۔‘‘

جمعدار نے دیکھا کہ سورج کافی اونچا اٹھ آیا ہے۔ اب ادھر ادھر کی باتیں کرنے کا وقت نہیں۔ سو اس نے کہا، ’’بابو کالی چرن۔ جاؤ پہلے رحیم الدین کا ہاتھ بٹاؤ۔ پھر پنڈت کے ساتھ مل کر نالیوں کو اچھی طرح دھو کر صاف کرواؤ۔‘‘

’’بابو کالی چرن۔‘‘ جمعدار نے دل ہی دل میں تیسرے بھنگی کا نام دہرایا اور سوچا، ’’کوئی کائستھ وائستھ معلوم ہوتا ہے۔ چنگی میں منشی ہوگا یا ہو سکتا ہے کسی چھوٹے موٹے اسکول میں ماسٹر ہی ہو۔ بھائی کی بابوگیری ابھی نکل جائے گی۔ بڑا آیا بابو کالی چرن کہیں کا۔ لیکن اسی لمحے اس نے دیکھا کہ کالی چرن بڑی پھرتی سے کام کر رہا ہے۔ تین ہی پھیروں میں کوڑے کا سارا ڈھیر اس نے گاڑی میں بھر دیا ہے اور اب زمین پر چپکے ہوئے کوڑے کو ٹین کے ایک ٹکڑے سے کھرچ کر صاف کر رہا ہے اور پھر اس نے میونسپلٹی کے ایک نل سے ٹین کا کنستر بھرا اور پانی کو نالی میں بہا کر جھاڑو سے رگڑنا شروع کیا بالکل جیسے کسی تجربہ کار پرانے بھنگی کو کرنا چاہیے۔ جمعدار کو یاد آ گیا کہ جب وہ جمعدار نہیں ہوا تھا تو وہ خود بھی اسی طرح پھرتی اور صفائی سے کام کیا کرتا تھا۔ اور یہ سوچ کر وہ کالی چرن کے بارے میں شبہ میں پڑگیا۔

’’اے بابو ادھر آؤ۔‘‘ اس نے آواز دی اور کالی چرن کو گلی کے ایک کونے میں لے گیا۔

’’کیا ہوا جمعدار۔ میرے کام سے خوش نہیں ہو کیا؟‘‘

’’تمہارا نام کیا ہے؟‘‘

’’کالی چرن۔‘‘

’’ذات۔‘‘

’’کائستھ۔‘‘

’’کون سے کائستھ ہو؟‘‘

’’جی۔۔۔ وہ سکسینہ ہیں ہم لوگ۔‘‘

’’پہلے کیا کام کرتے تھے؟‘‘

’’جی وہ۔ بکرم پور میونسپلٹی میں کام کرتا تھا۔‘‘

’’کون سے محکمے میں؟‘‘

’’جی۔۔۔ وہ یوں سمجھیے کہ صفائی کے محکمے میں تھا۔‘‘

’’ہاں تو ذات کیا کہی تھی تم نے؟‘‘

’’جی۔۔۔ کائستھ۔‘‘

’’تم جھوٹ بولتے ہو۔‘‘

’’جی؟‘‘

’’تم بھنگی ہو۔ جیسے میں بھنگی ہوں۔‘‘

’’آہستہ بولو۔ جمعدار۔‘‘ کالی چرن ہاتھ جوڑ کر بولا، ’’کوئی سن لے گا۔‘‘

’’شرم کی بات ہے۔ نوّے روپے کی خاطر تم نے اتنا بڑا جھوٹ بولا۔ اپنی برادری کو ٹھکرا دیا۔‘‘

’’کیا کروں جمعدار۔ بیٹے کو پڑھا رہا ہوں۔ چالیس روپے مہینے میں اس کا خرچہ کہاں سے دوں۔ تمہاری کرپا رہی تو وہ کالج تک پڑھ جائےگا۔‘‘

’’اچھا۔‘‘ جمعدار کچھ سوچ کر بولا دھیرے سے، ’’مگر ایک شرط ہے۔‘‘

’’جو تم کہو جمعدار۔ تم مالک ہو۔‘‘

’’آئندہ پھر کبھی ایسی پھرتی اور صفائی سے کام نہ کرنا نہیں تو پکڑے جاؤگے؟‘‘ اور پھر وہ چلاکر بولا، ’’کالی چرن۔ تم بابو ہوگے تو اپنے گھر کے ہوگے۔ بھنگی کا کام کرنے آئے ہو تو بھنگی کی طرح کرنا پڑےگا۔ نوے روپے اسپیشل الاؤنس لیتے ہو۔۔۔‘‘

اب وہ تینوں بھنگی گلی میں جھاڑو دے رہے تھے اور جمعدار اپنی مونچھوں پر تاؤ دے رہا تھا۔

Comments

- Advertisement -