The news is by your side.

Advertisement

پانی پت: احمد شاہ ابدالی اور بالی ووڈ کا تعصب

فلم کے بارے میں ناقدین کیا کہتے ہیں؟
بالی ووڈ نے مرہٹوں اور احمد شاہ ابدالی کی افواج کے درمیان جنگ کو ‘‘پانی پت’’ کے نام سے بڑے پردے پر پیش کیا ہے جس میں حقائق کو مسخ اور تاریخ کو نظر انداز کرنے کی بدترین روایت برقرار رکھی ہے۔

تاریخ اور فلم کے ناقدین کا بھی کہنا ہے کہ اس فلم میں افغانستان کے حکم راں احمد شاہ ابدالی کے کردار کو مسخ کرکے پیش کیا گیا ہے۔ یہ کردار سنجے دت نے نبھایا ہے۔ ناقدین کے مطابق یہ فلم ہر لحاظ سے کم زور اور حقیقت سے دور ہے۔

1761، پانی پت کا میدان اور دو حکم راں
افغانستان کے بادشاہ احمد شاہ ابدالی اور مرہٹہ سلطنت کے راجا سداشو راؤ بھاؤ کی افواج اور ان کے اتحادیوں کے درمیان 1761 میں پانی پت کے میدان میں جنگ لڑی گئی۔

پانی پت ہندوستان میں دلی کے شمال میں واقع ہے جہاں ان دو حکم رانوں کی افواج کے درمیان یہ جنگ پانی پت کی تیسری بڑی لڑائی کے طور پر مشہور ہے۔ یہی وہ جنگ ہے جس میں ہندو مرہٹوں کو ابدالی افواج کے ہاتھوں شکستِ فاش ہوئی اور وہ دوبارہ طاقت حاصل نہ کرسکے۔ تاریخ کے مطابق اس لڑائی کا آغاز 14 نومبر کی صبح ہوا تھا۔

احمد شاہ ابدالی: تعارف اور انتخاب کی کہانی
کہتے ہیں احمد شاہ ابدالی کی پیدائش ملتان کی ہے جسے افغان امیر نادر شاہ کے قتل کے بعد معززین نے نیا حکم راں چنا تھا۔

بعض تاریخی کتب میں تحریر ہے کہ اس انتخاب کے لیے جرگہ ہوا تھا۔ یہ جرگہ شیر سرخ بابا کے مزار پر منعقد ہوا تھا جس میں احمد شاہ ابدالی کو بادشاہ تسلیم کیا گیا۔ احمد شاہ نوجوان اور اس وقت نادر شاہ کی فوج کا کمانڈر تھا۔
احمد شاہ ابدالی نے اقتدار میں آکر قبائلی جھگڑے ختم کروائے اور ملک کو مضبوط کرتے ہوئے ریاست کی بنیاد رکھی۔

ابدالی ریاست مغربی ایران سے لے کر ہندوستان کے شہروں تک پھیلی ہوئی تھی۔ یہ حکم راں نہ صرف ایک مضبوط افغان ریاست کے قیام میں کام یاب رہا بلکہ اس دور میں مرہٹوں کی فوجی طاقت سے مرعوب ہوئے بغیر شجاعت اور بہادری سے ان کا مقابلہ کیا اور بدترین شکست دی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں