ختم نبوت سے متعلق قانون مزید سخت، دھرنے والے عوام کو بھڑکا رہے ہیں: احسن اقبال -
The news is by your side.

Advertisement

ختم نبوت سے متعلق قانون مزید سخت، دھرنے والے عوام کو بھڑکا رہے ہیں: احسن اقبال

اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال کا کہنا ہے کہ ختم نبوت سے متعلق قانون مزید سخت کردیا گیا ہے۔ دھرنے والے عوام کو بھڑکا رہے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ختم نبوت پر سمجھوتہ نہیں کر سکتی۔ حکومت نے اس قانون کا ہمیشہ کے لیے مسئلہ طے کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ میں واضح طور پر دہراتا ہوں کہ ختم نبوت پر ایمان نہ رکھنے والا، یا کسی اور کو نبی ماننے والا مسلمان نہیں۔ اس قانون کو مزید مؤثر اور سخت کردیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دھرنا دینے والے عوام کو بھڑکا رہے ہیں، مسئلے پر عوام کے جذبات بھڑکانا اور تشدد کی طرف لے جانا ٹھیک نہیں۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ ختم نبوت ہر مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے، ختم نبوت پر ہم بھی دوسروں کی طرح غیرت مند ہیں، لیکن دھرنے سے پاکستان کا پوری دنیا میں غلط تاثر جارہا ہے کہ شاید اس مسئلے پر ہم میں تقسیم ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسئلے پر عوام کے جذبات بھڑکانا تشدد کی طرف لے جانا ٹھیک نہیں۔ دھرنے کے قائد اشتعال انگیز بیانات سے گریز کریں۔

انہوں نے کہا کہ جڑواں شہر کے 8 لاکھ افراد دھرنے کے باعث محصور ہیں۔ 14 دن سے راستے بند ہیں، مریض اسپتال، اور بچے اسکول نہیں جا سکتے۔ دھرنے کے باعث 2 اموات ہوچکی ہیں، کیا اس طرح ہم نبی کریم کی تعلیمات پر عمل کر رہے ہیں؟

احسن اقبال نے کہا کہ میں اب بھی کہتا ہوں اور علما اس قانون کے متعلق کہیں کہ اس میں کوئی سقم ہے تو ہم نظر ثانی کرنے کو تیار ہیں، تاہم اب ہم ہائیکورٹ کے حکم کی تعمیل نہ کر کے توہین عدالت کے مرتکب ہورہے ہیں۔

مزید پڑھیں: ختم نبوت ﷺ کا حلف نامہ بحال

انہوں نے کہا کہ ادارے اس جگہ پر کارروائی کرنے اور جگہ خالی کروانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، لیکن ہم تصادم سے بچنا چاہ رہے ہیں، ہم اس نام کا احترام کر رہے ہیں جس پر اتنے لوگ جمع ہوئے ہیں، لیکن ان کے پاس اب کوئی بہانہ نہیں کہ لوگوں کی زندگیاں اجیرن کریں۔

وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ انٹیلی جنس معلومات ہیں، دھرنے میں شامل کچھ لوگ کشیدگی چاہتے ہیں۔ اگر حالات بے قابو ہوئے تو حکومت کو شہریوں کی حفاظت کے لیے اقدامات اٹھانا ہوں گے۔

انہوں نے ایک بار پھر دھرنے کے شرکا سے دھرنا ختم کرنے کی اپیل کرتے ہوئے مزید علمائے کرام کو ثالثی کا کردار ادا کرنے کی درخواست کی۔

یاد رہے کہ اسلام آباد کے ریڈ زون میں گزشتہ 10 روز سے مذہبی جماعت کے رہنماؤں اور کارکنان دھرنا دیے بیٹھے ہیں۔ ان کے دھرنے کے دوران ہی ختم نبوت سے متعلق متنازعہ شق کو دور کر کے نیا قانون قومی اسمبلی اور سینیٹ میں منظور کرلیا گیا ہے۔

حکومت کی جانب سے مظاہرے کے شرکا کو کہا گیا کہ ان کے دھرنے کا جواز ختم ہوگیا ہے تاہم مظاہرین نے اپنا دھرنا ختم کرنے سے انکار کردیا۔ ان کا مطالبہ ہے کہ وزیر قانون زاہد حامد استعفیٰ دیں۔

اسی دوران اسلام آباد ہائیکورٹ نے انتظامیہ کو سختی یا نرمی سے دھرنا ختم کرنے کا حکم بھی دیا۔

گزشتہ روز بھی حکومت نے دھرنے کے شرکا سے مذاکرات کی کوشش کی تاہم دونوں فریقین میں ڈیڈ لاک برقرار رہا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں