The news is by your side.

سیلاب زدہ علاقوں کے لیے مزید 81 ملین ڈالر امداد کی اپیل

اسلام آباد: عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر پلیتھا ماہی پالا کا کہنا ہے کہ عالمی برادری سے پاکستان کے لیے 81.5 ملین ڈالر امداد کی اپیل کی ہے، عالمی امداد سے متاثرہ علاقوں میں طبی سہولیات کو بہتر بنایا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر پلیتھا ماہی پالا نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیلاب سے پاکستان کے 84 اضلاع متاثر ہوئے ہیں، سیلاب سے 3 کروڑ 30 لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں، 1700 سے زائد افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں جبکہ 70 لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہوئے ہیں۔

ڈاکٹر پلیتھا کا کہنا تھا کہ ڈبلیو ایچ او سیلاب زدہ علاقوں میں اضافی طبی عملہ بھجوا رہا ہے، ماہرین 10 اکتوبر کو سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کریں گے، ڈبلیو ایچ او سیلاب زدہ علاقوں کی مستقل مانیٹرنگ کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی ہیلتھ اسٹرکچر کی بہتری کے لیے اقدامات جاری ہیں، سیلاب زدہ علاقوں میں ایڈیشنل 330 ویکسی نیشن ٹیمز تشکیل دی ہیں، انسداد خسرہ ویکسی نیشن کے لیے بھی ٹیمز بنا دی گئی ہیں۔ پاکستان کو 9 ملین ڈالرز کی ادویات اور دیگر اشیا فراہم کر چکے ہیں۔ مراکز صحت کی بحالی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر معاونت کریں گے۔

ڈاکٹر پلیتھا کے مطابق سیلاب سے 2 ہزار سے زائد مراکز صحت کو نقصان پہنچا ہے، سیلاب زدہ علاقوں میں ہیلتھ ورکرز بہترین کام کر رہے ہیں۔ سیلاب کے دوران ہائی لیول ایمرجنسی کا اعلان کیا گیا تھا، سیلاب سے سندھ اور بلوچستان میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ سیلاب زدہ علاقوں میں 5 ہزار سے زائد میڈیکل کیمپس قائم ہیں، میڈیکل کیمپس میں 30 لاکھ متاثرین کو طبی سہولیات فراہم کی گئی ہیں، سیلاب زدہ علاقوں میں وبائی امراض کا پھیلاؤ جاری ہے، ہیضہ، ملیریا، ڈینگی اور جلدی امراض میں اضافہ دیکھا جارہا ہے۔ پاکستان میں دسمبر تک ملیریا کیسز 20 لاکھ تک پہنچ سکتے ہیں۔ سیلاب زدہ علاقوں میں غذائی قلت کے مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے۔

ڈاکٹر پلیتھا کا مزید کہنا تھا کہ عالمی برادری سے پاکستان کے لیے 81.5 ملین ڈالر امداد کی اپیل کی ہے، عالمی امداد سے متاثرہ علاقوں میں طبی سہولیات کو بہتر بنایا جائے گا۔ تاحال ڈبلیو ایچ او نے نصیر آباد، سکھر اور حیدر آباد میں آپریشنل حب قائم کیے ہیں، متاثرہ علاقوں میں 10 ایمرجنسی آپریشن سینٹرز قائم کیے گئے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں