The news is by your side.

Advertisement

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی نے طلبہ کو بڑی سہولت دے دی

اسلام آباد: علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی نے داخلے کے خواہش مند طلبہ کو بڑی سہولت دے دی، جس سے اُن کا قیمتی وقت ضائع نہیں ہوگا۔

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ اب طلبہ کو  داخلے کے لیے قطار میں لگ کر وقت ضائع کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ داخلہ نظام کو ڈیجیٹلائز کردیا گیا ہے۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ داخلے کے نظام کی ڈیجٹلائزیشن کے بعد طلبہ داخلہ فارم اور  تمام دستاویزات آن لائن جمع کرا سکیں گے۔

ترجمان کے مطابق علامہ اقبال او پن یونیورسٹی داخلوں، امتحانات، باقی تمام تعلیمی اور انتظامی امور کو مکمل طور پر ڈیجٹلائز کرنے کے لئے گزشتہ دو سال سے کوشاں ہے۔

مزید پڑھیں: علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کا امتحانات ملتوی کرنے کا اعلان

اعلامیے کے مطابق یونیورسٹی نے اپنی ویب سائٹ پر طلبہ کو داخلہ فارم اوردستاویزات اپ لوڈ کرنے کی سہولت فراہم کردی ہے، جس کے تحت وہ داخلہ فارم کے ساتھ متعلقہ دستاویزات جمع کرا کے کسی بھی کلاس اور سمیسٹر میں ایڈمشن لے سکتے ہیں۔

اس نظام سے قبل انتظامیہ کی جانب سے  طلبہ کو  داخلہ فارم کے ساتھ متعلقہ دستاویزات کی تصدیق شدہ کاپی ڈاک کے ذریعے ارسال کرنے کی ہدایت کی جاتی تھی، بعض طلبہ کے داخلہ فارم اور دوسری مطلوبہ دستاویزات یونیورسٹی کو تاخیر سے موصول ہونے کی وجہ سے وہ داخلے سے رہ جاتے تھے۔

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ضیا القیوم نے طلبہ کی شکایات کے بعد داخلہ نظام کو درست کرنے اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے استعمال کی ہدایت کی تھی۔ وائس چانسلر کی ہدایت پر شعبہ داخلہ نے انفارمیشن کمیونیکیشن ٹیکنالوجی(آئی سی ٹی)کے شعبے کے تعاون سے داخلے کے اعتراض کو ختم کر کے طلبہ کو یونیورسٹی ویب سائٹ پر دستاویزات اپ لوڈ کرنے کی سہولت فراہم کردی ہے۔

دستاویزات آن لائن بھیجنے کا طریقہ

 ڈائریکٹر شعبہ داخلہ سید ضیا ا لحسنین نے بتایا کہ نئے نظام کے تحت اب طلبہ اپنی دستاویزات کی تصاویر یونیورسٹی کی ویب سائٹ یا  لنک http://adms.aiou.edu.pk/obj_ssearch.php پر اپ لوڈ کرسکتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ’داخلہ پالیسی کو جدید کرنے کا مقصد طلبہ کے قیمتی وقت کو ضائع ہونے بچانا اور اُن کے داخلوں کی تصدیق کا عمل بروقت مکمل کرنا ہے تاکہ سمسٹر ضائع ہونے کے خدشات ختم ہوجائیں گے اور طلبہ کا یونیورسٹی پر اعتماد برقرار  رہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں