کابل میں جنگ سے زیادہ فضائی آلودگی لوگوں کی اموات کا سبب -
The news is by your side.

Advertisement

کابل میں جنگ سے زیادہ فضائی آلودگی لوگوں کی اموات کا سبب

کابل: ایک طویل عرصے سے جنگ کا شکار ملک افغانستان کا دارالحکومت اپنے شہریوں کے لیے کوئی محفوظ جائے پناہ نہیں رہا۔ آئے روز ہونے والے دہشت گردی کے واقعات سے کابل کے لوگوں کی زندگی ہر وقت خطرے کا شکار رہتی ہے کہ کب اور کہاں وہ کسی دھماکے کا شکار ہوجائیں۔

لیکن اس کے علاوہ ایک شے اور ہے جو کابل کے شہریوں کو بلا دریغ موت کے گھاٹ اتار رہی ہے، اور وہ ہے فضائی آلودگی۔

اقوام متحدہ کے مطابق فضائی آلودگی کی وجہ سے مختلف بیماریوں کا شکار ہو کر مرنے والے افراد کی سالانہ تعداد جنگ میں مرنے والے افراد کی تعداد سے دگنی ہے۔

گو کہ افغانستان قدرتی مناظر اور خوبصورت مقامات سے بھرپور ملک ہے تاہم اس کی فضائی آلودگی اس ملک کا حسن برباد کر رہی ہے۔ ملک کا دارالحکومت کابل اکثر و بیشتر اسموگ کی لپیٹ میں رہتا ہے۔

مزید پڑھیں: طالبان اب درخت اگائیں گے

کابل پولی ٹیکنک یونیورسٹی کے ایک پروفیسر ڈاکٹر اسرار الدین گزید کا کہنا ہے کہ شہر میں آلودگی کی سب سے بڑی وجہ شہر میں جابجا بکھرے گندگی کے ڈھیر ہیں جنہیں مناسب طور پر ٹھکانے لگانے کا انتظام موجود نہیں۔

بالآخر اس کچرے کو ختم کرنے کے لیے اسے جلایا جاتا ہے۔

ایک اور وجہ گاڑیوں سے نکلنے والا دھواں ہے جس نے کابل کو آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں شامل کردیا ہے۔ کابل میں زیادہ تر پرانی گاڑیاں اور غیر معیاری فیول استعمال ہوتا ہے جن سے نکلنے والا دھواں شہر کی فضا میں سانس لینا دو بھر کردیتا ہے۔

کابل میں گاڑیوں، کچرا جلانے سے اٹھنے والا دھواں، اور پاور جنریٹرز یہاں کی آلودگی کی اہم وجوہات ہیں۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں