ماحولیاتی آلودگی کے باعث ذیابیطس کا مرض تشویشناک حد تک بڑھ گیا، تحقیق
The news is by your side.

Advertisement

ماحولیاتی آلودگی کے باعث ذیابیطس کا مرض تشویشناک حد تک بڑھ گیا، تحقیق

نیویارک: امریکا کے طبی ماہرین نے انکشاف کیا ہےکہ ماحولیاتی آلودگی کے باعث انسانوں میں ذیابیطس کا مرض خطرناک حد تک بڑھتا جارہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق امریکی ماہرین نے ماحولیاتی آلودگی اور ذیابیطس کے بڑھتے ہوئے مرض کی روک تھام اور اس کے تیزی سے پھیلنے سے اسباب معلوم کرنے کے لیے 2016 میں تحقیق شروع کی جس کے نتائج گزشتہ دنوں جاری کیے گئے۔

مطالعاتی مشاہدے کے دوران متعدد لوگوں کے خون کے نمونے حاصل کیے گئے جس کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ ہر سات میں سے ایک شخص ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے شوگر کے مرض میں مبتلا ہوگیا۔

مزید پڑھیں: سورج کی روشنی ذیابیطس کے مرض کو روکنے میں‌ معاون

تحقیقاتی رپورٹ میں ماہرین نے یہ بات لکھی کہ شوگر کی بیماری انسان کے رہن سہن اور خوراک کی وجہ سے بھی پھیلتی ہے، ماحولیاتی آلودگی ہمارے زندگیوں کو بری طرح متاثر کررہی ہے اور اس سے انسانوں کا لائف اسٹائل پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ماحولیاتی آلودگی کے باعث دنیا بھر میں تقریباً 32 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے اور وہ ذیابیطس کے مرض میں مبتلا ہوئے۔

تحقیقاتی ٹیم کی سربراہ اور واشنگٹن یونیورسٹی کی پروفیسر العلیٰ کے مطابق مطالعاتی مشاہدے کے دوران اس بات کے ثبوت ملے کہ فضائی آلودگی انسانی جسم میں شوگر کی افزائش تیزی کے ساتھ ہورہی ہے جو ہمارے لیے تشویشناک ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ذیابیطس کا آسان اور قدرتی علاج

اُن کا کہنا تھا کہ گاڑیوں اور صنعتوں سے نکلنے والا دھواں انسانی جسم میں موجود انسولین کی پیدوار کو کم کررہا ہے جس کے باعث خون میں شوگر کی مقدار کم ہوجاتی ہے۔

 

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں