تازہ ترین

ملک میں معاشی استحکام کیلئےاصلاحاتی ایجنڈےپرگامزن ہیں، محمد اورنگزیب

واشنگٹن: وزیرخزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ ملک...

کچے کے ڈاکوؤں کو اسلحہ فراہم کرنیوالے 3 پولیس افسران سمیت 7 گرفتار

کراچی : پولیس موبائل میں جدید اسلحہ سندھ اسمگل...

پاکستان کو آئی ایم ایف سے 6 ارب ڈالر قرض پروگرام کی توقع

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ...

دہشت گرد تنظیم القاعدہ افغانستان میں دوبارہ قدم جمانے لگی

افغان طالبان اقتدار میں آنے کے بعد دوسری دہشتگرد تنظیموں کے ساتھ ساتھ ٹی ٹی پی اور القاعدہ کو محفوظ پناہ گاہیں مل گئیں جس سے ان کیخلاف دہشتگردانہ کارروائیوں میں آسانی پیدا ہو گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق افغانستان ہمیشہ سے دہشتگرد تنظیموں کا گڑھ رہا ہے مگر افغان طالبان کی حکومت آنے کے بعد دہشتگرد تنظیموں کو یہاں مزید سہولیات میسر آگئیں ، جس سے ان کو پنپنے کا موقع ملا۔

افغانستان نے ہمیشہ اپنی سرزمین کو دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال کیا ہے، افغانستان کے دہشتگردی کا گڑھ ہونے کی وجہ سے پڑوسی ممالک بھی دہشتگردی کا شکار ہیں۔

الجزیرہ کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ افغانستان نے ہمیشہ اپنی سرزمین کو پڑوسی ممالک میں دہشتگردانہ حملوں کے لیے استعمال کیا ہے، افغانستان کی سرزمین پر تحریک طالبان افغانستان، القاعدہ اور دوسری دہشت گرد تنظیموں کا قبضہ رہا ہے۔

رپورٹ میں کہنا تھا کہ 21اگست2021 کو طالبان کی جانب سے افغانستان پر اقتدار جمانے کے بعد ان تنظیموں کا قبضہ مزید پختہ ہو گیا ہے، دہشتگرد تنظیم القاعدہ نے افغانستان میں اپنے قدم دوبارہ سے جمانے شروع کر دیے ہیں، افغان طالبان اقتدار میں آنے کے بعد دوسری دہشتگرد تنظیموں کے ساتھ ساتھ ٹی ٹی پی اور القاعدہ کو محفوظ پناہ گاہیں مل گئیں جس سے ان کیخلاف دہشتگردانہ کارروائیوں میں آسانی پیدا ہو گئی.

الجزیرہ رپورٹ میں کہا گیا کہ القاعدہ طالبان کی سہولت کاری سے سمگلنگ اور منشیات کے کاروبار سے دنیا بھر میں دہشتگرد تنظیموں کی سہولت کاری کرتا ہے جبکہ القاعدہ افغانستان میں شمالی بدخشاں اور دیگر صوبوں میں سونے کی کانوں سے لاکھوں ڈالرز کما کر اپنی تنظیم کی فنڈنگ کر رہی ہے، سونے کی کانوں سے طالبان کی ماہانہ رقم 25 ملین ڈالر ان کے سرکاری بجٹ میں ظاہر نہیں ہوتی۔

رپورٹ کے مطابق اگست 2021 میں اقتدار حاصل کرنے کے بعد، طالبان نے فہرست میں شامل دہشت گرد گروپوں کی ایک بڑی تعداد کو ضم کیا، اس حوالے سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور امریکی کانگریس نے القاعدہ سمیت درجنوں ممنوعہ دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ طالبان کے ہم آہنگی کے تعلقات کے بارے میں مسلسل رپورٹ کیا ہے۔

الجزیرہ کا کہنا تھا کہ طالبان القاعدہ کے کمانڈروں اور کارندوں کو تمام ضرورت کے ہتھیار، پاسپورٹ، اور اسمگلنگ کے وسیع نیٹ ورک تک رسائی میں سہولت فراہم کر رہی ہے، جس کے باعث دہشت گردوں کیلئے راستوں کی سہولت، ہتھیار، نقدی، سونا اور دیگر ممنوعہ اشیاء کا استعمال افغانستان میں بڑھ گیا ہے۔

القاعدہ کی افغانستان میں موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ طالبان حکومت دہشت گردی کو فروغ دینے میں ملوث ہے۔

Comments

- Advertisement -