The news is by your side.

علیم خان کے جوڈیشل ریمانڈ میں11 اپریل تک توسیع

لاہور:احتساب عدالت نے آمدن سے زائد اثاثہ جات اور آف شور کمپنی کیس میں گرفتار پی ٹی آئی کے سینئر رہنما علیم خان کے جوڈیشل ریمانڈ میں 11 اپریل تک توسیع کردی۔

تفصیلات کے مطابق آمدن سے زائد اثاثہ جات اور آف شور کمپنی کیس میں گرفتار پی ٹی آئی کے رہنما علیم خان کو14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ مکمل ہونے پر احتساب عدالت کے جج نجم الحسن کے روبرو پیش کیا گیا۔

عدالت نے سماعت کے آغاز پر استفسار کیا کہ بتائیں کیس میں کیا پیش رفت ہوئی؟ جس پر نیب پراسیکیوٹر وارث جنجوعہ نے جواب دیا کہ انکوائری حتمی مراحل میں ہے۔

احتساب عدالت نے ریمارکس دیے کہ ابھی تک ریفرنس کیوں دائرنہیں کیا گیا جس پر نیب پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ تفتیش مکمل ہوتے ہی ریفرنس دائرکردیا جائے گا۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ 2 ماہ گزرگئے ابھی تک تفتیش کیوں مکمل نہیں ہوئی، ایک شخص کو بغیر چالان جیل میں نہیں رکھا جاسکتا۔

احتساب عدالت نے ریمارکس دیے کہ ایسا نہیں ہوسکتا کسی کو جیل میں ڈال دیا جائے اوروہ پڑا رہے، وکیل علیم خان نے کہا کہ 15 دن کی بجائے7 دن کا جوڈیشل ریمانڈ دیں تا کہ پتہ چلے کیا پیشرفت ہوئی۔

عدالت نے نیب کوعلیم خان کیس کی تفتیش جلد مکمل کرنے کا حکم دیتے ہوئے ان کے جوڈیشل ریمانڈ میں 11 اپریل تک توسیع کردی۔

احتساب عدالت میں گزشتہ سماعت کے دوران نیب پراسیکیوٹر وارث جنجوعہ سے استفسار کیا تھا کہ ریفرنس کب فائل کیا جائے گا جس پر انہوں نے جواب دیا کہ حتمی رپورٹ جلد مرتب کرلی جائے گی۔

وکیل علیم خان نے دلائل دیتے ہوئے کہا تھا کہ عدالت حکم دے کہ ریفرنس جلد فائل کیا جائے، وکیل نیب وارث جنجوعہ نے کہا کہ کیس کا ریفرنس بھی جلد ہی مکمل کر کے پیش کردیا جائے گا۔

احتساب عدالت میں سماعت کے دوران وکیل علیم خان نے دلائل دیتے ہوئے کہا تھا کہ علیم خان کے مزید جسمانی ریمانڈ کی ضرورت نہیں ہے۔

بعدازاں عدالت نے علیم خان کے جوڈیشل ریمانڈ میں 14 دن کی توسیع کرتے ہوئے تحریک انصاف کے رہنما کو 2 اپریل کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔

یاد رہے 6 فروری کو نیب لاہور نے آمدن سے زائد اثاثہ جات اورآف شورکمپنیوں کیس میں پنجاب کے سینئر وزیرعبدالعلیم خان کو گرفتارکیا تھا۔

نیب کی جانب سے گرفتاری کے بعد علیم خان نے اپنا استعفیٰ وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار کو بھجوا دیا تھا، علیم خان کا کہنا تھا کہ مقدمات کا سامنا کریں گے، آئین اورعدالتوں پریقین رکھتے ہیں، مجھ پر آمدن سے زائد اثاثوں کا نہیں، آفشور کمپنیوں کا مقدمہ ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں